کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 196
"یقیناًلوگ جب برائی دیکھنے کے بعد اسے نہیں روکتے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا میں انہیں بھی شامل کر لے۔[1] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: "من رأى منكم منكرًا فليغيره بيده،فإن لم يستطع فبلسانه،فإن لم يستطع فبقلبه،وذلك أضعف الإيمان" "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے ہی براجانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"[2] اس معنی میں احادیث بہت زیادہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(شیخ ابن باز) رسائل و جرائد میں غیر محرم عورتوں کی تصاویر دیکھنا:۔ سوال۔رسائل و جرائد اور دیگر چیزوں میں خواتین کی تصوریریں دیکھنے کا کیا حکم ہے؟ جواب۔کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ(غیرمحرم)عورتوں کے چہروں کی طرف دیکھے یا ان کے قابل ستر اعضاء دیکھے نہ تو رسائل میں اور نہ ہی کسی اور چیزمیں کیونکہ یہ عمل فتنہ کے اسباب میں سے ہے،بلکہ مسلمان پر تو واجب ہے کہ وہ ان شرعی دلائل کو مد نظررکھتے ہوئے اپنی نظریں جھکائے رکھے جن میں اس عمل سے منع کیا گیا ہے۔(شیخ ابن باز) ٹیلی ویژن میں غیر محرم عورتوں کو دیکھنے کا حکم:۔ سوال۔ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے اگر کوئی اجنبی عورت سامنے آجائے تو اسے دیکھنے کا کیا حکم ہے؟ جواب۔یہ جا ئز نہیں کیونکہ ٹیلی ویژن پر آنے والی خواتین غالب طور پر بناؤ سنگھا رکیے ہوئے اور بے حجاب ہوتی [1] ۔[صحیح : صحیح الجامع الصغیر 1974صحیح ابن ماجہ ابن ماجہ 3005۔کتاب الفتن : باب الامربالمعروف والنھی عن المشکاۃ 5142] [2] ۔[صحیح : صحیح الجامع الصغیر 625ابن ماجہ 4013۔کتاب الفتن : باب الامربالمعروف والنھی عن المنکر المشکاۃ 5137۔صحیح الترغیب 2302۔ کتاب الحلود : باب الترغیب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ]