کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 193
ساتھ حج پر جاؤ۔"[1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس صحابی کو جہاد چھوڑ کر بیوی کے ساتھ جانے کا کہنا سفر میں محرم کے وجوب پر دلالت کرتا ہے حالانکہ اس صحابی کا ایک غزوے میں جانے کے لیے نام لکھا جا چکا تھا اور پھر عورت کا وہ سفر بھی حج جیسی عظیم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تھا سیرو سیاحت اور تفریح کے لیے نہیں تھا اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ وہ جہاد چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جائے۔اس سے اس مسئلے کی اہمیت عیاں ہے۔ اہل علم نے کسی محرم ہونے کے لیے پانچ شرائط لگائی ہیں۔ (۱)۔مرد ہو۔۔۔(۲)۔مسلمان ہو۔۔۔(۳)۔بالغ ہو۔۔۔(۴)۔عاقل ہو۔(۵)۔وہ اس عورت پر ابدی طور پر حرام ہو۔ مثلاً والد بھائی چچا ماموں سسر والدہ کا خاوند اور رضاعی بھائی وغیرہ واضح رہے کہ جن رشتہ داروں سے وقتی طور پر نکاح حرام ہے مثلاً بہنوئی اور پھوپھا وغیرہ وہ محرم نہیں ہیں معلوم ہوا کہ عورت کا دیور اس کا چچا زاد اور اس کا ماموں زاد اس کا محرم نہیں جس وجہ سے اس کا ان کے ساتھ سفر پر جانا جائز نہیں۔(شیخ محمد المنجد) دم کرنے کے لیے اجنبی عورت سے خلوت:۔ سوال۔قرآنی دم کرنے والے مولانا صاحب کے پاس جانے کا کیا حکم ہے؟اور مزید یہ کہ وہ عورت کو اکیلے اور خلوت(تنہائی)میں دم کرتا ہے اور بعض اوقات عورت کی حالت کے پیش نظر کچھ دن تک اسے اپنے گھر میں بھی رکھتا ہے؟میں بھی انہی عورتوں میں شامل تھی لیکن بعد میں مجھے ایسا کرنے پر بہت زیادہ ندامت ہوئی تو میں نے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہوئے ایسے کام سے تو بہ کر لی۔ جواب۔کسی بھی اجنبی عورت سے خلوت کرنا حرام ہے خواہ وہ خلوت قرآن کریم کا دم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "خبردار!جو آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرتا ہے ان دونوں کا تیسرا(ساتھی)شیطان ہو تا ہے۔"[2] [1] ۔[بخاری 3006۔کتاب الجہاد والسیر : باب من اکتب فی جیش فخرجت امراتہ حاجۃ] [2] ۔[صحیح : صحیح الجامع الصغیر 2546۔ترمذی 2165۔کتاب الفتن : باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ 1171۔کتاب الرضاع : باب ماجاء فی کراہیۃالدخول علی المغیات المشکاۃ 3118۔السلسلۃالصحیحۃ430]