کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 191
اندر آنے اجازت طلب کی جو ان کا رضاعی چچا تھا تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو میں نے جو کچھ کیاتھا آپ کوبتایا۔یہ سن کر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اسے ا پنے پا س آنے کی اجازت دے دوں۔"[1] امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیاہے جس کے الفاظ یہ ہیں: "عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں بتایا ان کے رضاعی چچا کا نام افلح تھا آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دے دی اور پردہ کرلیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا تو آ پ نے فرمایا،اس سے پردہ نہ کرو،اس لیے کہ رضاعت سے بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو نسب کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے۔"[2] فقہائے کرام نے کتاب وسنت سے ثابت دلائل کی رو سے یہ صراحت کی ہے کہ عورت کے رضاعی محارم بھی اس کے نسبی محارم کی طرح ہی ہیں لہذا اس کے لیے رضاعی محارم کے سامنے زینت کی چیزیں(مثلاً ہاتھ،چہرہ)ظاہر کرناجائز ہے۔جس طرح کہ نسبی محارم کے سامنے جائز ہے اور ان کے لیے بھی عورت کے بدن کی و ہ چیزیں دیکھنا مباح ہے جو نسبی محارم کے لیے دیکھنا مباح ہے۔ مصاہرت یعنی نکاح کی وجہ سے محارم: عورت کے لیے مصاہرت کی وجہ سے محرم وہ ہیں جن سے اس کا ابدی طور پر نکاح حرام ہو جا تا ہے جیسا کہ والدکی بیوی بیٹے کی بیوی اور ساس یعنی بیوی کی والدہ ہے۔والد کی بیوی کے لیے محرم مصاہرت وہ بیٹا ہو گا جو اس کی دوسری بیوی سے ہو،بیٹے کی بیوی یعنی بہو کے لیے اس(لڑکے)کا باپ یعنی سسر محرم ہو گا اور بیوی کی ماں یعنی ساتھ کے لیے خاوند یعنی اس کا داماد محرم ہو گا۔چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ "اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی اور اپنی زیب و زینت کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا پنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی میل جول کی عورتوں کے غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔[3] [1] ۔[بخاری مع الفتح (9/150)] [2] ۔[مسلم مع الشرح للنووی(10/22)] [3] ۔[النور:31]