کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 186
کرے پھر جو شریعت کے مطابق ہوں ان پر عمل کرے اور جو اس کے خلاف ہوں انہیں چھوڑ دے۔اگر لوگ کسی کام کو عادت بنالیتے ہیں تو یہ اس کے حلال ہونے کی دلیل نہیں۔بلکہ لوگوں نے جتنی بھی اپنے خاندانوں،قبیلوں ملکوں اور معاشروں میں رسوم وعادات بنا رکھی ہیں انہیں کتاب اللہ اور سنت رسول پر پیش کرنا واجب ہے پھر جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے مباح کیا ہو وہ مباح ہے اور جس سے منع کیا ہو اس پر عمل جائز نہیں اور اسے چھوڑنا واجب ہے خواہ وہ کام لوگوں کی عادات میں شامل ہو۔ لہذا جب لوگوں نے کسی اجنبی عورت سے خلوت یا غیر محرم سے پردہ نہ کرنے کی عادت اپنا لی ہو اور اس میں تساہل سے کام لیں۔تو ان کی یہ عادت باطل ہے اسے ترک کرنا واجب ہے اسی طرح اگر کچھ لوگ زنا یا لواطت یا شراب نوشی یانشہ وغیرہ جیسے کاموں کو عادت بنا لیں تو ان پر ان عادات کو چھوڑنا واجب ہوگا اور عادت ہونا ان کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔کیونکہ شریعت مطہرہ کا درجہ سب سے اوپر ہے اس لیے جسے بھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ہدایت نصیب فرمائی ہے اسے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کاموں سے اجتناب کرناچاہیے اور اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے واجبات کا التزام کرے۔ چنانچہ خاندان والوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات کا احترام کریں اور ان کے حرام کردہ کاموں سے بچیں۔تو جب ان کی عورتوں کی یہ عادت ہو کہ وہ غیر محرموں سے پردہ نہیں کرتیں یا پھر ان سے خلوت کر تی ہیں تو انہیں یہ عادت ترک کرنی چاہیے بلکہ ان پر اسے چھوڑنا واجب ہے۔کیونکہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے چچا زاد،خالہ زاد،پھوپھی زاد،بہنوئی،دیوروں،خاوند کے چچا اور ماموں کے سامنے چہرہ ننگا کرے بلک اس پر واجب ہے کہ وہ ان سب سے پردہ کرے اور ان سے اپنا سر چہرہ اور باقی بدن چھپائے کیونکہ وہ اس کے محرم نہیں۔ رہا مسئلہ کلام یعنی سلام کرنے یا سلام کاجواب وغیرہ دینے کا تو پردے کے اندر رہتے ہوئے اور خلوت کے بغیر اس میں کوئی حرج نہیں،کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "اور جب تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردےکے پیچھے سے طلب کرو ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے۔"[1] اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا: "اےنبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگرتم پرہیز گار ی اختیار کروتو نرم لہجے سے بات مت کرو [1] ۔[الاحزاب ۔53]