کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 184
پردے کے پیچھے سے عورتوں کے ساتھ مصافحہ کرنے میں بھی نظر ہے اور ظاہر یہ ہوتا ہے کہ حدیث شریف کے عموم اور سد ذریعہ پر عمل کرتے ہوئے سے مصافحہ کرنا مطلقاً منع ہے۔فرمان نبوی ہے کہ: "میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔"[1](شیخ محمد المنجد) اجنبی عورت سے مصافحہ کرنے کے بارے میں شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا تو ان کا جواب تھا: ہر ہو چیز جو مرد اور عورت کے د رمیان فتنہ کا باعث جو حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ﴿مَا تركْتُ بعْدِي فِتْنَةً هِي أَضَرُّ عَلَى الرِّجالِ مِنَ النِّسَاءِ﴾ "میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر(نقصان دہ)کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔"[2] اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد کے چمڑے کا(اجنبی)عورت کے چمڑے کو چھونا فتنہ کا باعث ہوگا الا کہ شاذ ونادر ہی ایسا نہیں ہوتا اور نادر کے لیے حکم نہیں ہوتا جیسا کہ اہل علم فرماتے ہیں اور علماء نے اس مسئلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مرد کے لیے اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا حلال نہیں،یہی بات برحق ہے کہ اس کے لیے ایسا کرنا حلال نہیں خوااہ کسی حائل(مثلا کپڑے وغیرہ)کے ساتھ مصافحہ کیاجائے یا کسی حائل کے بغیر۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) دستانوں کے اوپر سے غیر محرم سے مصافحہ:۔ سوال۔اگر عورت دستانوں کے اوپر سے کسی(اجنبی)مردکے ساتھ مصافحہ کرے تو کیا وہ گناہ گار ہوگی؟ جواب۔عورت کے لیے اجنبی یعنی غیر محرم مردوں سے مصافحہ کرنا جائز نہیں خواہ اس نے دستانے ہی پہنے ہوں۔(شیخ ابن جبرین) عورت کا اپنے والد اور دیگر محارم کے سامنے سر ننگا رکھنا:۔ سوال۔کیا عورت کے لیے اپنے والد یا چچا کے سامنے اپنا سر ننگا رکھنا جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ اس کا چچا [1] ۔[دیکھیں حاشیہ :محموعۃ رسائل فی الحجاب السفور(69) [2] ۔[بخاری(5096) کتاب النکاح باب ما یتقی من الثوم مسلم(2740)وغیرہ]