کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 182
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ)،فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ،أَفَرَأَيْتَ الحَمْوَ؟،قَالَ:(الحَمْوُ المَوْتُ) "عورتوں کے پاس جانے سے بچو،ایک انصاری شخص کہنے لگا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ذرا خاوند کے عزیز واقارب کے بارے میں تو بتائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،خاوند کے عزیز واقارب تو موت ہیں۔"[1] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:۔ اہل لغت اس پر متفق ہیں کہ"الاحماء" خاوند کے عزیز واقارب کو کہا جاتا ہے مثلاً اس کاباپ،چچا،بھائی بھتیجا اور چچا زاد وغیرہ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان"عزیز واقارب تو موت ہیں"کا معنی یہ ہے کہ دوسروں کی بہ نسبت ان سے زیادہ فتنہ وشر متوقع ہے کیونکہ اس کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے عورت تک پہنچنا اور اس سے خلوت کرنا ممکن ہے جبکہ اجنبی کے لیے ایسا ممکن نہیں۔یہاں حمو سے مراد خاوند کے والد اور بیٹوں کے علاوہ باقی عزیز واقارب مرد ہیں۔کیونکہ خاوند کے آباءاجداد اور اسکے بیٹے تو اس کی بیوی کے لیے محرم ہیں جن سے اس کی خلوت جائز ہے۔جنھیں موت قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس سے مراد خاوند کے بھائی یعنی دیور،بھتیجا چچا اور چچا زاد وغیرہ جومحرم نہیں مرادہیں۔ ان کے بارے میں لوگوں کی عادت یہ ہے کہ وہ اس تساہل برتتے ہیں اور دیور بھابھی سے خلوت کرتا ہے حالانکہ اسے موت سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے خلوت وتنہائی اجنبی سے بھی زیادہ ممنوع ہونی چاہیے اس کی وجہ ہم نے اوپر ذکر کردی ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے وہی حدیث کا صحیح معنی ہے۔[2] شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:۔ جب عورت مکمل طور پر شرعی پردہ میں ہو اوراس کا چہرہ بال اور باقی بدن چھپا ہوا ہوتو وہ اپنے دیوروں یا اپنے چچازادکے ساتھ بیٹھ سکتی ہے۔لیکن یہ بیٹھنا بھی صرف اسی وقت جائز ہے جب اس میں کسی قسم کا خدشہ نہ ہو اور جس بیٹھنے میں شرکی تہمت کا خطرہ ہو وہاں بیٹھنا جائز نہیں مثلاً ان کے ساتھ بیٹھ کر موسیقی اور گانے سنے [1] ۔[مسلم(2172) کتاب السلام ۔باب تحریم الخلوۃ بالااجنبیۃ والدخول علیھا،بخاری(5232) کتاب النکاح باب لابخلون رجل بامراۃ الاذو محرم ترمذی(1171) کتاب الرضاع باب ما جاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیات احمد(17352)وغیرہ] [2] ۔[شرح مسلم للنووی (154/14)]