کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 177
فرمان:"تمہاری بیویوں کی مائیں"کا مطلب ہے مرد پر اس کی ساس جو کہ بیوی کی والدہ ہے اور اس کی نانی خواہ ا س سے بھی اوپر والی ہو(یعنی نانی کی ماں اور اس کی ماں غیر سب)حرام ہیں اور یہ محض عقد نکاح کی وجہ سے ہی حرام ہوجائیں گی۔ جب کوئی مرد کسی عورت سے نکاح کرے تو اس کی بیوی کی والدہ اس کی محرم بن جائے گی خواہ اس نے بیوی سے ہم بستری کی ہو یا نہ کی ہو۔بالفرض اگر نکاح کے بعد بیٹی فوت ہوجاتی ہے یا اسے طلاق دے دی جاتی ہے تو وہ بعد میں بھی اس کی والدہ کا محرم ہی رہے گا۔وہ اس کے سامنے اپنا چہرہ ننگا کرسکتی ہے اس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اور خلوت بھی کرسکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔اسلیے کہ بیوی کی والدہ(یعنی ساس)اور اس کی نانی صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجاتی ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا عموم ہے: اور"(حرام ہیں تم پر)تمہاری بیویوں کی مائیں۔"[1] اور عورت صرف عقد نکاح کی بنا پر ہی مرد کی بیوی بن جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان"اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں(تم پر حرام کردی گئی ہیں)۔"سے میرے بیٹے کی بیوی(یعنی بہو)ہے خواہ وہ اس سے بھی نیچے والے کی بیوی ہو(یعنی پوتے کی یا پوتے کے بیتے کی وغیرہ)وہ اس کے والد پر صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجائے گی اور اسی طرح دادا پر پوتے کی بیوی صرف عقد نکاح سے ہی حرام ہوجائے گی۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا عموم ہے: "اور(تم پر حرام ہیں)تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔" اور عورت صرف عقد نکاح کے ساتھ ہی خاوند کی بیوی بن جاتی ہے۔[2] عمر رسیدہ چچازاد بہن سے مصافحہ کرنا اور اس کا سرچومنا:۔ سوال۔میری ایک چچازاد جس کی عمر ستربرس ہے کیا میں اس کا پر دے کے اوپر سے سر چوم سکتا ہوں یا اس سے مصافحہ کرسکتا ہوں کہ نہیں کیونکہ وہ بوڑھی ہے؟ جواب۔آپ کا اس کے سر کابوسہ لینا یا اس سے مصافحہ وغیرہ کرنا جائز نہیں بلکہ آ پ کے لیے یہ مشروع ہے کہ آ پ اس سے کلام کےذریعے سلام کرلیں خواہ وہ بوڑھی ہی ہے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کی محرمات میں شامل نہیں۔البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ اس سے یوں حال دریافت کرلیں کہ آ پ کا اور آ پ کی اولاد کا [1] ۔ [النساء۔23] [2] ۔[مزید دیکھئے: الفتاوی الجامعہ للمراۃ المسلمۃ(2/591)