کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 176
تو خاوند کا والد(یعنی عورت کا سسر)ا پنی بہو کا محرم بن جائے گا خواہ شوہر نے اس سے ہم بستری نہ بھی کی ہو۔ علمائے کرام اسے محرمات بالمصاہرہ(یعنی نکاح کی وجہ سے حرام کردہ)کا نام دیتے ہیں۔محرمات بالمصاہرہ کی چار قسمیں ہیں: 1۔ جس سے والد نے نکاح کرلیا ہو(یعنی والد کی بیوی اور اس طرح دادا کی بیویاں)اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔"[1] 2۔ بیوی کی والدہ اور اس کی نانیاں(یعنی ساس اور اس کی نانیاں)اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:اور(تم پر حرام ہیں)تمہاری بیویوں کی مائیں۔"[2] 3۔ ربیبہ(یعنی بیوی کی پہلے خاوند سے بچی)ربیبہ اس وقت حرام ہوگی جب مرد نے اس کی والدہ سے ہم بستری کرلی ہو لیکن اگر اس کی ماں سے ابھی صرف عقد نکاح ہی ہوا ہے اور ہم بستری نہیں ہوئی تو اس صورت میں اس کی بیٹی یعنی ربیبہ حرام نہیں ہوگی۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور(تم پر حرام ہیں)تمہاری پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو اور اگر تم نے ان سے ہم بستری نہیں کی تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔"[3] 4۔ بیٹے کی بیوی(یعنی بہو)اور اسی طرح پوتوں کی بیویاں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں(تم پر حرام)ہیں۔"[4] شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،فرمان باری تعالیٰ ہے کہ: "اور(تم پر حرام ہیں)تمہاری پرورش کردہ لڑکیاں جوتمہاری گودمیں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو اور اگر تم نے ان سے جماع نہیں کیا تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔"[5] تحریم مصاہرہ میں یہ تین قسمیں ہیں(یعنی شادی کی وجہ سے یہ تین قسم کی حرمت ہے)پس اللہ تعالیٰ کے [1] ۔[النساء:22] [2] ۔النساء۔23] [3] ۔ [ایضاً] [4] ۔[النساء۔23۔مزیدتفصیل کے لیے دیکھئے :جامع احکام النساء للعدوی(5/302)] [5] ۔ [النساء۔23]