کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 175
جواب۔راجح قول جسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کی ہے،کے مطابق عورت کا اپنے رضاعی سسر سے پردہ نہ کرنا جائزنہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ﴿الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة﴾ "جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔"[1] اور عورت کا سسر بہو پر نسبی اعتبار سے حرام نہیں بلکہ وہ تو شادی کی وجہ سے حرام ہوا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا بھی فرمان ہے: "اور(تم پرحرام ہیں)تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔"[2] رضاعی بیٹا مرد کا صلبی اور سگا بیٹا نہیں اس بنا پر اگر عورت کے خاوند کا کوئی رضاعی باپ ہو تو وہ عورت واجبی طور پر اس سے پردہ کرے گی اور اس کے سامنے اپنا چہرہ وغیرہ ننگا نہیں کرے گی اور اگر بالفرض رضاعی بیٹے سے عورت کو علیحدگی ہوجائے تو پھر جمہور علمائے کرام کی رائے میں اس عورت کا رضاعی سسر سے نکاح حلال نہیں ہوگا۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) کیا سابقہ سسر محرم ہے؟ سوال۔مسلمان عورت کے سابقہ سسر کے ساتھ کس طرح کے تعلقات ہوں گے اور کیا اس کے آنے پر عورت کے لیے اس سے پردہ کرنا واجب ہوگا؟ جواب۔عورت کا سسر اس کے لیے محرم ہوگا خواہ خاوند نے اسے طلاق ہی کیوں نہ دے دی ہو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کردہ عورتوں کے بیان میں فرمایا ہے: "اور(تم پر حرام ہیں)تمہارے سگے بیٹوں کی بیویاں۔"[3] یہاں پر صرف عقد نکاح سے ہی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اس لیے اگر کسی مرد نے عورت سے عقد نکاح کرلیا [1] ۔[بخاری(5099) کتاب النکاح باب قول اللہ تعالیٰ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ موطا (2/601)مسلم(1444) کتاب الرضاع:باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة "نسائی(6/102) دارمی (2/155) وغیرہ] [2] ۔[النساء۔23] [3] ۔(النساء:23)