کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 174
ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور اس کے علاوہ باقی عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔"[1] اور اس لیے بھی(ایسا کرنا جائز ہے)کہ ان دونوں کے درمیان کوئی قرابت اور رشتہ داری نہیں،اس طرح دونوں یہ اجنبیوں کے مشابہ ہوئیں اور اس لیے بھی کہ جمع اس لیے حرام کیاگیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دو قریبی نسبی رشتہ دار عورتوں کے درمیان قطع رحمی کاخدشہ ہوتا ہے اور ان دونوں کے درمیان تو کوئی قرابت داری ہی نہیں تو اس سے مکروہ کہنے والوں کی اور ہماری بات کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔[2] لہذا ثابت ہواکہ آپ کی بیوی کے والد کی بیوی(جو آپ کی بیوی کی والدہ نہیں)آپ کی محرمات میں شامل نہیں ہوگی۔بلکہ وہ آپ کے لیے اجنبی ہے آپ اس سے نہ تو مصافحہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی آپ کے لیے اس سے خلوت اور اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے۔(واللہ اعلم) لڑکی کا اپنےوالد کے ماموں سے شادی کا حکم:۔ سوال۔کیا لڑکی اپنے والد کے ماموں سے شادی کرسکتی ہے؟ جواب۔لڑکی کا اپنے والد کے ماموں سے شادی کرنا جائز نہیں اس لیے کہ والد کے ماموں اس کے بھی ماموں ہیں اور وہ اس کے محرموں میں سے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "تم پر تمہاری مائیں،تمہاری بیٹیاں،تمہاری بہنیں،تمہاری پھوپھیاں،تمہاری خالائیں،تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں حرام ہیں۔"[3] علمائے کرام نے دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت کی ہے کہ والد کا چچا اس کے بیتے بھی چچا ہے اور والد کا ماموں اس کے بیتے کا بھی ماموں ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) کیا خاوند کا رضاعی باب محرم ہے؟ سوال۔بہو کا اپنے رضاعی سر سے پردہ نہ کرنے کا حکم؟ [1] ۔[النساء۔24] [2] ۔[المغنی لابن قدامہ(7/98)] [3] ۔[النساء۔23]