کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 169
"اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیے ہیں۔"[1] اس آیت سے پتہ چلا کہ انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے والد یا اپنے دادا کی منکوحہ سے شادی کرے خواہ وہ آباواجداد کی جانب سے ہوں یا والدہ کی جانب سے اور چاہے اس نے عورت سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ جب مرد اپنی بیوی سے عقد صحیح کرلیتا ہے تو وہ عورت صرف اس عقد کی وجہ سے ہی اس کی اولاد اور اسی طرح اولاد کی اولاد پر بھی حرام ہوجاتی ہے خواہ وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں(یعنی بیٹے بیٹیاں،پوتے پوتیاں اور دھوتے دھوتیاں)اور اس سے بھی نیچے کی نسل۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) کیا والدین کے چچا اور ماموں محرم ہیں؟ سوال۔کیا عورت پر اپنی دادی کے بھائی سے پردہ کرنا واجب ہے؟ جواب۔دادی کے بھائی والدہ کے ماموں ہیں اور ہر انسان کا ماموں اس کی ساری اولاد کا بھی ماموں شمار ہوگا اس بنا پر آپ کے والد کاماموں آپ کابھی ماموں ہوا۔لہذا وہ آپ کامحرم ہے اور آپ پر اس سے پردہ کرنا واجب نہیں۔بلکہ آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ اس کے سامنے اپنا چہرہ وغیرہ ننگا رکھیں جو کہ عام طور پر محرم کے سامنے ننگا رکھا جاتا ہے۔ شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ہر شخص کی خالہ یا اس کی پھوپھی اس کی اولاد(پوتوں اور دھوتوں)کی بھی خالہ اور پھوپھی ہوگی۔اس طرح آپ کے والد کی پھوپھی آپ کی بھی پھوپھی ہے۔اور آپ کے والد کی خالہ آپ کی بھی خالہ ہے۔اور اسی طرح آ پ کی والدہ کی پھوپھی آپ کی بھی پھوپھی ہے اور آپ کی والدہ کی خالہ آ پ کی بھی خالہ ہے۔نیز اسی طرح آپ کے آباءاجداد کی خالائیں اور پھوپھیاں آپ کی بھی خالائیں اور پھوپھیاں ہوں گی۔ شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ سے مندرجہ ذیل سوال بھی کیاگیا: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی والدہ کے چچا یا والدہ کے ماموں یا والد کے چچا یا والد کے ماموں کے سامنے چہرہ ننگا کرے(یعنی کیا یہ سب اس کے محرم ہیں)؟ [1] ۔[النساء۔22]