کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 167
اس کا حکم بھی اپنی اصل پر ہی باقی رہے گا کہ ان سے پردہ کرنا و اجب ہے لیکن اگر اس عورت(پھوپھو)نے اپنی بھتیجی کو دودھ پلا یا ہو تو اس وقت اس کا پھوپھا رضاعی باپ بن جائے گا اور اس وجہ سے وہ اس کا محرم ہوگا۔لہذا اگر آپ نے اپنی بھتیجی کو دودھ نہیں پلایا تو پھر اسے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے آپ کے خاوند یعنی اپنے پھوپھا سے پردہ کرنا چاہیے اور ایسا کرنا ہی فریقین کے لیے بہتر اور اچھا ہے اور دلوں کی پاکی اور فتنہ سے دوری بھی اسی میں ہے۔اللہ تعالیٰ سے د عا گو ہیں کہ آپ اور آپ کے خاوند کو اس بچی کی تربیت اور پرورش کرنے پر اجر وثواب سے نوازے اور اسے آپ کی حسنات میں شامل فرمائے۔(واللہ اعلم)(شیخ عبدالکریم) کیا سسر اپنی بہو کا محرم ہے؟ سوال۔کیا میری بیوی میرے والد سے مصافحہ کرسکتی ہے؟ جواب۔جی ہاں آپ کی بیوی کے لیے اپنے سسر سے مصافحہ کرنا جائز ہے اس لیے کہ جب کسی عورت سے عقد نکاح ہوجائےتو اس عورت پر سسر حرام ہوجاتا ہے اور اسی طرح عورت کے لیے خاوند کی دوسری بیوی سے بیٹے بھی محرم ہوں گے اورخاوند پر اس کی ساس بھی حرام ہوجائے گی۔ اسے تحریم مصاہرت(یعنی سسرالی تحریم)کہتے ہیں اور اس بات کی دلیل کہ سسر کے لیے اس کی بہو حرام ہے مندرجہ ذیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور(تم پر حرام ہیں)تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں۔"[1] اور خاوند کے بیٹے کی والد کی بیوی حرمت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے۔"[2] اور دادماد پر اپنی ساس سے نکاح کی حرمت کی دلیل یہ فرمان باری تعالیٰ ہے: "اور(تم پر حرام ہے)تمہاری بیویوں کی مائیں۔" یہ تینوں(سسر،خاوند کا بیٹا اور ساس)کی حرمت صرف عقد نکاح ہونے سے ہی ثابت ہوجاتی ہے اس میں دخول وہم بستری شرط نہیں۔لیکن بیوی کی بیٹی ماں کے خاوند پر اس وقت تک حرام نہیں ہوگی جب تک اس کی ماں سے ہم بستری نہ کرلی جائے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [1] ۔[النساء۔23] [2] ۔[النساء۔22]