کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 162
اس شرط پر کرتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے گا اور پھر دونوں لڑکیوں کی رضا مندی کے بغیر ایسا کیا جاتا ہے۔اور مہر بھی یہ تبادلہ ہی ہوتا ہے تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب۔یہ نکاح جس کا سائل نے ذکر کیاہے حرام وباطل ہے یہ نکاح شغار ہے کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ﴾ "نکاح شغار اسلام میں نہیں۔"[1] عورت کے ولی پر واجب ہے کہ وہ اس کی رضا مندی کے بغیر اس کانکاح نہ کرے اور کامل مہر کے ساتھ اس کا نکاح کرے جو صرف اس عورت کا حق ہو،نہ اس کے بھائی کو دیا جائے اور نہ ہی اس کے والد کو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا﴾ "اور عورتوں کو ان کی مہر راضی خوشی دے دو ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہوکر کھالو۔"[2] اللہ تعالیٰ نے(اس آیت میں)مہر عورتوں کے لیے مقرر فرمایا ہے اور انہیں ہی اس میں تصرف کا حق دیا ہے۔اور بعض قبائل میں رواج ہے جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے وہ انتہائی قبیح عادت اور حرام ہے،اس طریقے سے عقد نکاح صحیح نہیں ہوتا اوردونوں عورتیں دونوں مردوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی حلال نہیں ہوتیں کیونکہ نکاح ہی صحیح نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والاہے۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس طرح کا فتویٰ دیا ہے۔ نکاح شغار کے بعد طلاق اور پھر نکاح:۔ سوال۔میرے والد نے میری بہن کے بدلے میرا(وٹہ سٹہ کی صورت میں)نکاح کردیا اور یہ سراسر جہالت کی بنا پر ہوا۔لیکن پھر جب ہمارے سامنے یہ واضح ہوا کہ یہ حرام ہے تو میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور میری بہن [1] ۔[مسلم۔(1415) کتاب النکاح باب تحریم نکاح الشغار وبطلانہ نسائی(2335) کتاب النکاح اب داود (2581) کتاب الجھاد ترمذی(1123) کتاب النکاح مسند احمد(4/429)] [2] ۔[النساء۔4]