کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 161
سے شادی کریں خواہ وہ کتنی ہی اچھی شخصیت اور عمدہ اخلاق کی مالک ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ "نہ تو وہ(مسلمان عورتیں)ان(کافر مردوں)کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی وہ(کافرمرد)ان(مسلمان عورتوں)کے لیے حلال ہیں۔"[1](شیخ محمد المنجد) اگر کسی مسلمان کی بیوی کا قبول اسلام کے بعد بھی ہندو مذہب پر عمل ہو:۔ سوال۔ایک برس قبل میں نے ایک ہندو لڑکی سے جس نے ظاہر تو یہی کیا تھا کہ وہ اسلام قبول کرچکی ہے،شادی کی۔لیکن شادی کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ اس نے دین اسلام صحیح طور پر قبول نہیں کیا اس لیے کہ وہ ابھی تک ہندو مذہب پر عمل پیرا ہے۔ میرے لیے اسے طلاق دینا مشکل ہے کیونکہ ہم آپس میں ایک دوسرے کو خوب سمجھتے ہیں اور میں حسب استطاعت کوشش کررہا ہوں کہ وہ دلی طور پر اسلام قبول کرلے۔میرے خیال میں وہ میری بات تسلیم کرلے گی،اب مجھ پر شرعاً کیا واجب ہوتا ہے؟ جواب۔شاید آپ کا خیال ہے کہ جن اعمال پر وہ عمل کرررہی ہے وہ اسلام کے منافی ہیں آپ کو چاہیے کہ سب سے پہلے آپ اس(بیوی)کو یہ شعائر ترک کرنے کی دعوت دیں اگر وہ آ پ کی بات مان کر ان پر عمل چھوڑ دیتی ہے تو یہی چیز مطلوب ہے اور اگر وہ ان پر عمل کرناترک نہیں کرتی تو آپ اسے کہیں کہ اگر تو ان پر عمل کرتی رہے گی تو ہمارے درمیان نکاح قائم نہیں رہے گا۔یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ عورت اس شادی کوقائم رکھنے کی رغبت رکھتی ہوگی تو یہ چیز اس کے قبول اسلام کا باعث بن جائے گی۔لیکن اگر وہ اس دھمکی کے باوجود بھی اپنے دین پر قائم رہتی ہے تو پھر آپ دونوں کے درمیان نکاح قائم نہیں اس وجہ سے آپ کو اس سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے(واللہ اعلم)(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) نکاح شغار(وٹہ سٹہ کی شادی)کا حکم:۔ سوال۔ہمارے ہاں ایک قبیلہ ہے جس میں نکاح کی صورت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی دوسرے سے [1] ۔[(الممتحنہ :10)]