کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 160
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ٖغالی قسم کے رافضیوں اور کچھ دوسرے غالی فرقوں(مثلا نصیریہ اور اسماعیلہ وغیرہ)کے بارے میں جنھوں نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلو سے کام لیا ہے،کہتے ہیں: بلاشبہ یہ سب یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بڑے کافر ہیں،اگرچہ ان میں کسی پر یہ ظاہر نہ بھی ہو۔یہ ان منافقوں میں سے ہیں جو جہنم میں سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور جو کوئی اس کا اظہار کرے وہ تو سب سے بڑا کافر ہوا۔ نیزشیخ السلام رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی کہا ہے: اور ان کی عورتوں سے نکاح کرناجائز نہیں اس لیے کہ وہ دین اسلام سے مرتد ہیں اور ان کا ارتداد سب سے زیادہ شر والا ہے۔ اور شیخ اسلام رحمۃ اللہ علیہ نے نصیری فرقہ کے بارے میں کچھ اس طرح کہا ہے: علمائےکرام کا اتفاق ہے کہ ان سے شادی کرناجائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اپنی کسی لڑکی کا نکاح ان سے کیا جائے۔علمائے سلف سے ا س بارے میں تواتر سے نصوص ملتی ہیں کہ اہل سنت مسلمان عورت کا نکاح ان بدعتی لوگوں سے جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے کرنا حرام ہے اور یہ نکاح فاسد ہے۔[1] پس اس مسلمان عورت کا اس اسماعیلی نوجوان سے نکاح کرناجائز نہیں،اس لیے کہ وہ نوجوان ملت اسلامیہ پر کاربند نہیں بلکہ مرتد ہے اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے جیسا کہ ان کے مذہب میں ذکر بھی کیا گیا ہے اور اس حرام کام میں نہ حصہ لیاجائے اور نہ ہی شامل ہوا جائے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) قادیانی عورت سے مسلمان کی شادی:۔ سوال۔مجھے یہ توعلم ہے کہ مسلمان کسی کتابی عورت سے شادی کرسکتا ہے تو کیا یہ بھی جائز ہے کہ وہ کسی قادیانی عورت سے شادی کرلے جو اچھی شخصیت اور اخلاق حسنہ کی مالک ہو؟ جواب۔جب قادیانی مذہب کفر اکبر اور اسلام سے خروج ہے تو آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ کسی قادیانی عورت [1] ۔[اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے آپ ان کتب کا مطالعہ کریں۔موقف اہل سنۃ والجماعۃ من الاھواء والبدع تالیف ڈاکٹر ابراہیم الرحیلی(1/377۔380) التقریب بین اھل السنہ والشیعۃ تالیف ڈاکٹر القفاوی (1/152)]