کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 159
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ "اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔"[1] اور اس لیے کہ اس پر ان دونوں کے عمل کی کوئی عار نہیں جب وہ خود اللہ کے دین پر قائم ہے اور اچھے پسندیدہ اخلاق سے متصف ہے۔(شیخ ابن باز) سنی لڑکے کی اسماعیلی لڑکی سے شادی:۔ سوال۔میری ایک سہیلی ایک نوجوان سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ لڑکی تواہل سنت س تعلق رکھتی ہے اورلڑکا اسماعیلی ہے۔میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا ان دونوں کی شادی جائز ہے؟ اور کیا ان دونوں کے فرقوں کو اس شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا باوجود اس کے کہ وہ دونوں ہی مسلمان گروہ شمار ہوتے ہیں؟ جواب۔اس لڑکی کا اسماعیلی نوجوان سے شادی کرناجائز نہیں۔اس لیے کہ اسماعیلی اسلام سے مرتد ہوچکے ہیں جیسا کہ علماء کرام نے اجمالاً اس مذہب کے بارے میں کہا ہے: "اسماعیلی مذہب ایسا مذہب ہے جو ظاہر میں تو رفض ہے اور باطن میں کفر محض یعنی پکا کفر ہے۔" امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: ان کے قول ما حصل یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعطیل کرتے ہیں اور نبوت اور عبادات کو بھی باطل قرار دیتے ہیں یوم البعث کا بھی انکار کرتے ہیں لیکن وہ سب کچھ شروع میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ شروع میں یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دین صحیح ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک راز ہے جو کہ ظاہر نہیں اور شیطان ابلیس نے ان سے کھیلتے ہوئے ان کے مذہب کو بہت ہی اچھا کرکے دکھایا ہوا ہے۔اسی طرح اسماعیلی فرقے کے علاوہ دوسرے بدعتی اور گمراہ فرقے جنہیں کافر کا حکم دیا گیا ہے کا بھی یہی حکم ہے مثلاً نصیری اور رافضی شیعہ وغیرہ ان سے بھی نکاح کرناجائز نہیں۔نہ تو ان کی لڑکی لینا اور نہ ہی انہیں دینا۔ طلحہ بن مصرف کہتے ہیں: رافضیوں کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے گا۔اس لیے کہ وہ مرتد ہیں۔ [1] ۔[الانعام :164]