کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 157
کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ مرتدوں نکاح صحیح نہیں کیونکہ وہ دین پر ہی قائم نہیں نہ تو وہ دین اسلام پر ہیں اور نہ ہی اس دین پر جس کی طرف مرتد ہوئے ہیں۔ پھر ہم نے یہ بھی پوچھا کہ: کیا نماز پڑھنے والے کی یہ صراحت کہ وہ صرف بیوی کے لیے نماز پڑھتا ہے مرتد ہونے کے لیے کافی ہے یا کہ ظاہر پر عمل کرتے ہوئے(کہ بظاہر تو وہ نماز پڑھتا ہی ہے)اس کے ساتھ ہی رہا جائے؟ شیخ کا جواب تھا۔ مجھے تو یہ ظاہر ہو تا ہے کہ وہ بیوی کو خوش کر کے نماز اللہ تعالیٰ کے لیے پڑھ رہا ہے وہ یہ نہیں چاہتا کہ نماز کا قیام رکوع،سجود اور قنوت بیوی کے لیے ہو وہ نماز تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ادا کر رہا ہے مگر ساتھ یہ بھی چاہتا ہے کہ بیوی بھی راضی ہو جا ئے۔تو ایسا کرنے سے وہ مشرک نہیں ہو گا۔(واللہ اعلم)(شیخ ابن عثیمین) اگر شادی کے بعد علم ہو کہ شوہر کافرہے؟:۔ سوال۔ایک آدمی نے مسلمان عورت کے ساتھ شادی کی پھر ظاہر ہوا کہ مرد کافر ہے تو اب کیا حکم ہے؟ جواب۔اگر ثابت ہو جا ئے کہ آدمی عقد نکاح کے وقت کافر تھا اور عورت مسلمان تھی بلاشبہ عقد باطل ہے کیونکہ مسلمانوں کے اجماع کے ساتھ کسی بھی کافر کا نکاح مسلمان عورت کے ساتھ جائز نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ہے۔ ﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾ "اور(اپنی عورتوں کو)مشرکوں کے نکاح میں مت دوحتی کہ وہ ایمان لے آئیں۔[1] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ "اگر تمھیں ان(عورتوں)کے مؤمن ہونے کا علم ہو جا ئے تو انہیں کافروں کی طرف واپس مت لوٹاؤ(کیونکہ)نہ تووہ(مسلمان عورتیں)ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی وہ(کافر)ان مسلمان عورتوں)کے لیے حلال ہیں۔"[2](شیخ ابن باز) [1] ۔[البقرۃ :221] [2] ۔[الممتحنہ:10]