کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 156
تک وہ اسلام قبول نہیں کرتے۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "اگر تمھیں یہ علم ہو جا ئے کہ وہ عورتیں مومن ہیں تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو نہ وہ عورتیں ان کفار کے لیے اور نہ ہی وہ کفار ان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔"[1](شیخ ابن زباز) بے نماز کی بیوی کیا کرے؟:۔ سوال۔میں ایک بے نماز سے شادی شدہ ہوں۔یہ شادی محبت کی شادی تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نوازا اور اب میں دین پر عمل کرتی ہوں۔وہ کوئی بھی نماز پڑھتا ہے تو ایسے کہ گویا اسے پڑھنے پر مجبور کیا گیا ہے میں نے بہت کوشش کی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے چھوڑ دو لیکن ایسا کرنا آسان کام نہیں کیونکہ میرے تین بچے ہیں اور پھر وہ بچوں کے لیے بہتر باپ کی حیثیت رکھتا ہے ہمارے درمیان دین کی ہی مشکل ہے لہٰذا مجھے اس بارے میں کیا کرنا چاہئے۔؟ جواب۔ہم نے مندرجہ ذیل سوال فضیلہ الشیخ محمد بن صالح عثیمین کے سامنے پیش کیا۔ میں ایک تارک نماز سے شادی شدہ ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نوازا تو میں اپنے خاوند سے نماز پڑھنے کا اصرار کرنے لگی تو وہ نماز پڑھنے لگا لیکن ایسے پڑھتا تھا کہ جیسے مجبور کیا گیا ہے بلکہ وہ یہ صراحتاًکہتا ہے کہ میں نماز تیرے لیے پڑھ رہا ہوں تو کیا میرا اس کے ساتھ رہنا جائز ہے کہ نہیں؟ تو شیخ کا جواب تھا۔ جب عقد نکاح کے وقت وہ بے نماز تھا تو یہ نکاح صحیح نہیں اس بنا پر بیوی پر واجب ہے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور جب وہ(تو بہ اور نماز کی پابندی کے پختہ عزم کے ساتھ)مسلمان ہو جا ئے تو پھر نیا نکاح کر لے اور اگر وہ مسلمان نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ عورت کو اس سے بہتر خاوند عطا کردے گا۔ پھر ہم نے یہ پوچھا کہ: اور جب عورت نے شادی کی تو وہ خود بھی بے نماز تھی اور خاوند بھی بے نماز تھا تو کیا یہ شادی باطل ہو گی؟ شیخ نے جواب دیا۔ جب وہ دین پر ہوں تو نکاح پر ہی باقی رہیں گے لیکن اگر وہ دین پر نہیں بلکہ مرتد ہوں تو بہت سے علمائے [1] ۔[الممتنہ:10]