کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 155
یہاں لفظ "نکاح "کی تفسیر ہم بستری آئی ہے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ۔ ﴿جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ . فَقَالَ:(أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟لَا،حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ،وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ﴾. "حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی پھر مجھے انھوں نے طلاق دے دی اور قطعی طلاق(یعنی طلاق بائن)دے دی پھر میں نے عبد الرحمٰن بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شادی کر لی۔لیکن ان کے پاس تو شرمگاہ)اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے۔لیکن تو اب اس وقت تک ان سے شادی نہیں کر سکتی جب تک تو عبد الرحمٰن بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزانہ چکھ لے اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔"[1](سعودی فتوی کمیٹی) بے نماز سے نکاح:۔ سوال۔جب ہم نے شادی کی تو میرا خاوند نماز نہیں پڑھتا تھا شادی کو تین برس ہو چکے ہیں اور شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد میں نے اسے نماز پڑھنے پر راضی کر لیا اور وہ نماز پڑھنے لگا تو کیا یہ شادی باطل ہے اس لیے کہ وہ شادی کے وقت بے نماز تھا اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟ جواب۔اگر شادی کے وقت شوہر بے نماز ہواور بیوی نمازی ہو(اور بعد میں شوہر نماز پڑھنا شروع کردے)تو ان پر دوبارہ نکاح کرنا واجب ہے۔اس لیے کہ کسی بھی مسلمان عورت کے لیے کافر سے نکاح کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "اور تم مشرکوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہیں ہو جاتے۔"[2] اس آیت کا معنی ہے کہ تم مسلمان عورتوں کا ان(کفارو مشرکین)سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب [1] ۔[بخاری 2639۔کتاب الشہادات : باب شہادۃ المجتبیٰ مسلم 1433کتاب النکاح : باب لا تحل المطلقة ثلاثا لمطلقهاحتی تنکح زوجا غیرہ ابو داؤد 2309۔کتاب الطلاق : باب المبتوته لا یرجع اليهاازوجها حتی تنکح زوجا ترمذی 1118۔کتاب النکاح باب ماجاء فیمن یطلق امراثلاثا فیتروجها اخر ابن ماجہ 1932۔ کتاب النکاح : باب الرجل یطلق امراته ثلاثا] [2] ۔[البقرۃ : 221]