کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 150
تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔"[1] اللہ تعالیٰ نے شادی کو اپنی نشانی قراردیا ہے جو غور و فکر اور تدبرکی دعوت دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے درمیان محبت و مودت اور رحمت و شفقت پیدا کی ہےاور خاوند کے لیے بیوی کو سکون و اطمینان کا باعث بنایا ہے اور اولاد پیدا کرنے کی رغبت پیدا کی ہے اور اسی طرح عورت کے لیے عدت اور وراثت بھی مقرر فرمائی ہے۔لیکن یہ سب کچھ اس حرام فعل "متعہ "میں نہیں پا یا جا تا۔ رافضوں(یعنی شیعہ حضرات)کے ہاں متعہ کی جانے والی عورت نہ تو بیوی ہے اور نہ ہی لونڈی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے۔ "اور(فلاح پانے والے مومن وہ ہیں)جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے یقیناًیہ لوگ ملامت کے قابل ہیں۔جو اس(یعنی بیوی اور لونڈی)کے سوا کچھ اور چاہیں تو وہی حد سے تجاوزکرنے والے ہیں۔"[2] شیعہ حضرات نے متعہ کی اباحت پر ایسے دلائل سے استدلال کیا ہے جن میں سے کوئی دلیل بھی صحیح نہیں جیسا کہ چند ایک کا بیان حسب ذیل ہے۔ 1۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: "اس لیے جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو۔"[3] ان کا کہنا ہے کہ: اس آیت میں متعہ کے مباح ہونے کی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان "ان کے مہر" کو اللہ تعالیٰ کے فرمان "استمتعتم"سے متعہ مراد لینے کا قرینہ بنایا ہے کہ یہاں سے مراد متعہ ہے۔اس کا ردیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں ذکر کیا ہے کہ مرد پر کون سی عورتوں سے نکاح حرام ہے اور اس آیت میں مرد کے نکاح کے لیے حلال عورتوں کا ذکر ہے اور شادی شدہ عورت کو اس کا مہر دینے کا حکم دیا ہے۔شادی کی لذت کو اللہ تعالیٰ نے استمتاع سے تعبیر کیا ہے اور حدیث شریف میں بھی اسی طرح وارد ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ [1] ۔[مسلم 140/6۔کتاب النکاح : باب النکاح المتعة و بیان انه ابیح ابو داؤد 2072۔کتاب النکاح : باب فی نکاح المتعة نسائی126/6ابن ماجہ 1922۔ کتاب النکاح : باب التسترعند الجماع حمیدی 846۔احمد 404/3] [2] ۔[المؤمنون : 5۔7] [3] ۔[النساء :24]