کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 148
لہذا اس بنا پر نکاح متعہ زنا شمار ہو گا اگرچہ مرد اور عورت دونوں اس پر رضا مند بھی ہوں اور مدت بھی لمبی ہو جائے اور مہر بھی ادا کردیا جائے۔اس نکاح کی اباحت شریعت اسلامیہ میں فتح مکہ کے علاوہ نہیں ملتی جہاں پر بہت سارے نئے نئے مسلمان بھی جمع تھے کہ جن کے مرتد ہو جانے کا بھی خوف تھا کیونکہ وہ جاہلیت میں زنا بدکاری کے عدی تھے تو ان کے لیے صرف یہ نکاح تین دن تک کے لیے مباح کیا گیا اور اس کے بعد قیامت تک کے لیے حرام قراردے دیا گیا۔(شیخ محمد المنجد) مقررہ مدت تک کے لیے شادی:۔ سوال۔تقریباً چار ہفتے قبل میری ایک عرب مسلمان شخص سے ملاقات ہوئی۔اس نے مجھے کہا کہ اسے مجھ میں خاص لگاؤ ہے اور میرے ساتھ رہنے میں رغبت رکھتا ہے اور ان ملاقاتوں کو صحیح اور قائم کرنے کے لیے اس نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ مقررہ مدت تک کے لیے شادی کرلو۔ میں نے اس مقررہ مدت تک شادی کے معانی تلاش کرنے کی کوشش کرنا شروع کردی۔میں اس شخص سے حقیقی طور پر محبت کرتی ہوں۔اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور ممکن ہے کہ ہم دونوں بالفعل شادی کرلیں۔لیکن مجھے اس موضوع کے متعلق کچھ علم نہیں۔گزارش ہے کہ آپ اس موضوع کی وضاحت کریں۔ جواب۔شریعت اسلامیہ میں کو ئی ایسی شادی نہیں جو مقررہ مدت تک کے لیے روا رکھی گئی ہو۔جو شخص بھی ایسا کرتا ہواپایا گیا اسے زنا کی حد کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ: "اس(نکاح متعہ کے)مسئلے میں میرے پاس جو بھی لا یا گیا میں اسے حد لگاؤں گا۔"[1] تاہم کچھ بدعتی اور گمراہ لوگ آج تک نکاح متعہ کو حلال سمجھتے ہیں جو کہ مقررہ مدت تک شادی کی ہی ایک قسم ہے حالانکہ شریعت اسلامیہ میں متعہ منسوخ ہو چکا ہے۔اس لیے آپ پر واجب اور ضروری ہے کہ آپ اس سے بچ کر رہیں اور آپ کی خواہش اور جذبات آپ پر غالب آکر کہیں آپ کو حق سے دورنہ کر دیں۔(شیخ محمد المنجد) [1] ۔[حسن صحیح ابن ماجہ 1598۔کتاب النکاح : باب النهي عن نکاح المتعة ابن ماجه 1963۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔(تلخیص الحبیر154/3)]