کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 143
اسے حمل تو نہیں۔اگر اس کا حمل ظاہر ہو تو پھر اس سے وضع حمل سے قبل شادی جائز نہیں۔[1] لہذا ایسی عورت جو زنا کی وجہ سے حاملہ ہواس سے شادی کرنا باطل ہے اور جس نے بھی اس سے شادی کی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ فوری طور پر اس سے علیحدہ ہو جا ئے وگرنہ وہ بھی زانی شمارہو گا اور اس پر حد زنا قائم ہو گی۔ پھر جب وہ اس سے علیحدگی کر لے اور وہ عورت اپنا حمل بھی وضع کر لے اور رحم بری ہو جا ئے اور پھر وہ عورت سچی تو بہ بھی کر لے اور وہ خود بھی توبہ کر لے تو پھر اس کے لیے اس عورت سے شادی کرنا جائز ہو گا۔ 4۔ رہا پہلے(زانی)مرد کے بارے میں تو اس پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے جرم کی توبہ کرے اور اس کا اس عورت سے مطلقاًشادی کرنا دووجہ سے جائز نہیں۔ اول یہ کہ وہ دونوں زانی ہیں اور زانی کا مومن سے نکاح حرام ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی اور مرد سے مرتبط ہے۔اس وجہ سے اسے چاہیے کہ وہ اس عورت سے مکمل طور پر نظر ہٹالے اور اس کا خیال دل سے نکال باہر کرے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اس جرم عظیم سے توبہ کرے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اے اللہ!گمراہ مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں اچھے طریقے سے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔(والحمد اللہ رب العالمین)(شیخ محمد المنجد) اگر کسی عورت کو کسی مرد کا خون لگایا گیا ہو تو کیا وہ اس پر حرام ہو جا ئے گی؟ سوال۔جب عورت کو خون کی ضرورت ہواور اس کے لیے کسی اجنبی شخص سے خون کا عطیہ لیا جا ئے پھر وہ صحت مند ہو جائے اور وہ شخص(جس نے خون کا عطیہ دیا تھا)اس عورت سے شادی کی رغبت کرےتو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ جواب انسان کے لیے ایسی عورت سے شادی کرنا جائز ہے کہ جسے اس کا خون لگایا گیا ہو۔کیونکہ خون دودھ نہیں ہے کہ جو عورت کو حرام کردے۔(یاد رہے کہ)حرام کرنے والا دودھ ہے بشرطیکہ دودھ چھڑانے کی مدت سے [1] ۔[دیکھیں : الفتاوی الجامعۃللمراء ۃ المسلمۃ584/2]