کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 142
بیان کریں کہ وہ دین کے ستون(نماز)کو ترک نہ کریں بلکہ جتنی جلدی ہو سکے تو بہ کر لیں۔اگر وہ آپ کی نصیحت نہیں مانتا تو پھر اس سے علیحدگی اختیار کر لیں اور اسے سلام کرنے سے بھی پرہیز کریں۔نہ اس کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں پئیں اور نہ ہی اسے کچھ کھلائیں اور اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بھی باز آجائیں۔تاکہ اسے محسوس ہو کہ وہ بہت ہی بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ممکن ہے اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا فائدہ مند ہو اور وہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے۔ 2۔ زنا کا اتکاب کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یقیناً یہ بہت ہی فحش کام اور برا راستہ ہے۔"[1] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کچھ اس طرح ہے۔ "زانی زنا کی حالت میں مومن نہیں ہو تا اور نہ ہی شراب نوشی کرنے والا شراب نوشی کرتے مومن ہو تا ہے اور نہ ہی چوری کرنے والا چوری کرتے وقت مومن ہو تا ہے اور نہ ہی ڈاکہ ڈالنے والا جب ڈاکہ ڈالے اور لوگ اس کی طرف نظر یں اٹھا ئے ہوئے ہوں تو وہ ڈاکہ دالنے کے وقت مومن نہیں ہو تا۔"[2] زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اس کے مرتکب کو درد ناک اور سخت قسم کی سزادی جائے گی۔جیسا کہ معراج کی طویل حدیث میں مذکورہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہم وہاں سے چل پڑے تو ایک تنورجیسی عمارت کے قریب پہنچے راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے کہ اس میں شورو غوغا سا سنائی دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہم نے اس میں جھانکا تو اس میں مرد اور عورتیں بے لباس و ننگے تھے اور ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ آتا تو وہ شور و غوغا کرنے لگتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے سوال کرنے پر فرشتوں میں مجھے بتایا وہ مرد و عورت تنور جیسی عمارت میں بے لباس و ننگے تھے وہ زانی مرد اور عورتیں تھیں۔[3] 3۔ تیسرا مسئلہ ہے زانی حاملہ عورت سے شادی کرنا اس کے بارے میں آپ کو علم ہو نا چاہیئے کہ زانیہ عورت سے شادی نہیں ہو سکتی لیکن اگر توبہ کر لے تو پھر شادی کرنی جائز ہے اور اگر مرد اس کی توبہ کے بعد اس سے شادی کرنا بھی چاہے تو پھر ایک حیض کے ساتھ استبرائے رحم کرنا واجب ہے۔یعنی نکاح سے قبل یہ یقین کر لیاجائے کہ [1] ۔[الاسراء : 32] [2] ۔[بخاری 2475۔کتاب المظالم والغصب :باب النھی بغیر ادن صاحبہ ] [3] ۔[بخاری 7047۔کتاب التعبیر : باب تعبیر الروبابعد صلاۃ الصحیح ]