کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 140
"اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے اور جس میں اس کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ وہ اس کے لیے ڈھال ہیں"[1](شیخ عبد الکریم) زانی عورت سے شادی:۔ سوال۔میرے ہی شہر سے ایک بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا جس کے میری ایک رشتہ دار سے تعلقات بھی تھے(ان تعلقات کے بارے میں اس نے مجھے اب بتایا ہے مجھے پہلے علم نہیں تھا)اس کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہو چکی تھی۔چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ جتنی جلدی ہو سکتا شادی کر لیتا لیکن بالآخر اس لڑکی نے کسی اور شخص سے شادی کر لی۔اب وہ لڑکی یہیں ہے۔ جس بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا تھا جب وہ اپنے سفر سے واپس آیا تو اس معاملے کو جان کر بہت پریشان ہوا۔وہ چاہتاتھا کہ میں اسے اس لڑکی کے ساتھ رابطہ کرنے کی اجازت دوں مگر میری خواہش یہ ہے کہ میں اسے نصیحت کروں کہ اب وہ اسے بھول جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرے اس لیے کہ وہ لڑکی دوبرس تک اس کے ساتھ کھیلتی اور دھو کہ دیتی رہی ہے میرے ساتھ بھی وہ لڑکی اسی طرح کرتی رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے مجھے ہدایت سے نواز دیا۔ جن کا بھی میں نے ذکر کیا ہے میرے خیال کے مطابق وہ شریعت اسلامیہ کی تطبیق نہیں کرتے اور نہ ہی نماز اداکرتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ اسلامی حوالے سے مجھ پر کیا مسئولیت واجب ہوتی ہے؟اور کیا میں کسی اور سے بھی مشورہ کروں؟مولانا صاحب!میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی نصیحت کریں مجھے علم نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ جواب۔اے مسلمان بھائی!آپ کا سوال کسی ایک مشکل پر نہیں بلکہ کئی ایک مشکلات پر مشتمل ہے ذیل میں ہم انہیں بیان کرتے ہیں۔ 1۔ اسلام سے منسوب آپ کی رشتہ دار لڑکی اور دوست کا بے نماز ہو نا یہ عمل کفریہ اعمال میں شمار ہو تا ہے۔مزید [1] ۔[بخاری 5065،کتاب النکاح : باب قول النبی : من استطاع الباء فلیتروج مسلم 1400کتاب النکاح : باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسه اليه ابو داؤد 3046۔ابن ماجہ 1845۔کتاب النکاح : باب ماجاء فی فضل النکاح ]