کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 138
دیں اور وہ بھی آپ سے مطلقہ کی عدت گزارے گی پھر آپ اس سے نکاح کرنا چاہیں تو مکمل شروط کے ساتھ اسے عقد نکاح میں لائیں۔ اگر آپ نے چوتھی طلاق بائنہ دی ہے(یعنی اس کی یہ طلاق تیسری طلاق تھی)تو پھر پانچویں سے نکاح کے جواز میں اہل علم میں اختلاف ہے۔حناملہ اور احناف کے ہاں یہ جا ئز نہیں اور فضیلۃ الشیخ علامہ عبد العزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی کو راجح کہا ہے۔[1] لہٰذااس کا حکم بھی وہی ہو گا جو کہ طلاق رجعی میں گزر چکا ہے کہ اگر تیسری طلاق کی عدت ختم ہو جا ئے تو پھر آپ کے لیے پانچویں سے نکاح کرنا ناجائز ہو گا۔(واللہ اعلم) اور چوتھی بیوی کی وفات کی صورت میں یہ جائز ہے کہ اس کی وفات کے بعد پانچویں سے شادی کر لے کیونکہ اس حالت میں زوجیت قائم نہیں رہتی۔(شیخ محمد المنجد) منگیتر کی ماں سے شہوت کے ساتھ مصافحہ اور بیٹی کی حرمت:۔ سوال۔میں جب اپنی ہو نے والی بیوی کی والدہ سے شہوت کے ساتھ مصافحہ کرلوں(یعنی میرے ہاتھ نے اس کے ہاتھوں کو چھوا یااس کے برعکس اور اس سے شہوت پیدا ہو گئی)تو کیا اس وجہ سے اس کی بیٹی سے میرا نکاح تو حرام نہیں ہو گا؟ میں اس مسئلے کے بارے میں بہت جلد نصیحت کا محتاج ہوں میں نوجوان ہوں اور اخلاقیات کا محتاج ہوں کیونکہ مجھے ہر وقت فاسد قسم کی سوچیں گھیرے رکھتی ہیں اور شہوت زیادہ ہے۔میں اگر صرف کسی عورت کو دیکھ ہی لوں یا پھر اگر غلطی سے کوئی عورت مجھے چھولےتو میرے اندر شہوت پیدا ہو جا تی ہے۔ جواب۔آپ کا اپنی ہونے والی ساس کی طرف شہوت سے دیکھنا اس کی بیٹی سے نکاح میں مانع نہیں ہو گا اس لیے کہ بیٹی سے شادی کرنا اس وقت ممنوع ہو گا جب آپ اس کی ماں سے شادی کر کے اس سے دخول وہم بستری کرلیں۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا مندرجہ ذیل فرمان ہے۔ "اور(حرام ہیں)تمھاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں تمھاری ان عورتوں سے جن [1] ۔[دیکھیں : فتاوی الطلا ق للشیخ ابن باز 278/1]