کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 136
سےجن سے تم دخول کر چکے ہو ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہیں کیا تو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں۔"[1](شیخ محمد المنجد) پھوپھی اور بھتیجی سے شادی:۔ سوال۔کیامیرے لیے اپنے چچا زاد کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے جبکہ اس کی بہن پہلے ہی میرے نکاح میں ہے؟ جواب۔آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ اپنے چچا زاد کی بیٹی اور بہن کو ایک نکاح میں جمع کریں کیونکہ وہ(یعنی آپ کی بہن)اس(یعنی آپ کی بیٹی)کی پھوپھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: ﴿نهى رسولُ اللّٰهِ -صلى اللّٰهُ عليه وسلم- أن تُنْكَح المرأة على عمتها. والمرأة على خالتها﴾ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ(پہلے ہی)آدمی کے نکاح میں ہو۔"[2]اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(سعودی فتوی کمیٹی) چوتھی بیوی کی طلاق کی عدت میں پانچویں عورت سے شادی:۔ سوال۔جب کسی کی چار بیویاں ہوں اور ایک کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں کسی اور سے شادی کر سکتا ہے؟جب اوپر والے سوال کا جواب یہ ہو کہ چوتھی کی عدت میں پانچویں سے شادی کرنا جائز نہیں تو اس کی دلیل کیا ہے؟اور کیا اس کی آخری شادی صحیح ہو گی اور اس کی تصحیح کے لیے قرآن و سنت کے مطابق کیا کرنا ہو گا؟ جواب۔اگر تو آپ نے اپنی چوتھی بیوی کو طلاق رجعی دی ہے یعنی یہ اس کی پہلی یا دوسری طلاق ہے تو علمائے کرام [1] ۔[النساء 23] [2] ۔[(بخاری 5108کتاب النکاح : باب لا تُنْكَح المرأة على عمتها مسلم 1408کتاب النکاح : باب تحریم الجمیع بین المراۃ و عمتها او خالتها فی النکاح ابو داؤد 2066کتاب النکاح باب مابکرہ ان یجمع بينهن من النساء ابن ماجہ 1929کتاب النکاح : لا تُنْكَح المرأة على عمتها ولا علی خالتها نسائی 3289و فی السنن الکبری 5419ابن حبان 4113شرح السنۃ للبغوی 2277۔ بیہقی 165/7موطا 1129کتاب النکاح : باب مالا یجمع بینه من النساء ]