کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 135
دونوں میں سے جسے چاہے طلاق دے دے۔[1](شیخ صالح فوزان) عورت اور اس کے باپ کی بیوی سے شادی:۔ سوال۔کیا میرے لیے بیوی اور اس کے والد کی بیوی(یعنی(میری بیوی کے والد کی دوسری بیوی)کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا جائز ہے؟ جواب۔مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی اور سسر کی بیوی جبکہ وہ بیوی کی ماں(یعنی ساس)نہ ہو شادی کر لے اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس عورت(سسر کی بیوی)سے شادی کر لے اگرچہ اس کے خاوند کی بیٹی بھی اس کے پاس ہے اس لیے کہ ان دونوں بیویوں کے درمیان کوئی تعلق ہی نہیں یعنی اس کی پہلی بیوی اور اس کے والد کی بیوی کے درمیان۔بلکہ جو حرام ہے وہ یہ ہے کہ دوبہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرلیا جائے۔یا پھر بیوی اور اس کی خالہ یا پھوپھی کو جمع کرنا حرام ہے اس کے علاوہ باقی سب حلال ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح میں حرام عورتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "اور ان عورتوں کے علاوہ اور عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو۔[2] اور ماں اور بیٹی کے مسئلے میں تفصیل ہے۔اگر تو بیٹی بیوی ہو تو اس کی ماں(یعنی ساس)صرف عقد نکاح کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جا ئے گی اور بیوی ماں ہے تو پھر اس میں تفصیل ہے کہ اگر تو خاوند نے اس سے دخول(یعنی جماع)کرلیا ہے تو اس صورت میں اس کی بیٹی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جا ئے گی اور اگر اس سے دخول نہیں کیا تو پھر(بیٹی)اس پراس وقت تک حرام ہے جب تک اس کی ماں کو نہیں چھوڑتا۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ "اور(حرام ہے)تمھاری ساس تمھاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں تمھاری ان عورتوں [1] ۔[حسن : صحیح ابو داؤد 1940کتاب الطلاق : باب فی من اسلم و عندہ نساء اکثر من اربع ابو داؤد 2243ترمذی 130کتاب النکاح : باب ماجاء فی الرجل یسلم و عندہ اخنان ابن ماجہ 195کتاب النکاح : باب الرجل یسلم و عندہ اخنان احمد 232/4] [2] ۔[النساء :24]