کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 133
ہاں توبہ کرے اور آپ دونوں پر بھی واجب ہے کہ اگر آپ نے اس میں اس کا تعاون کیا ہے تو آپ دونوں بھی توبہ کریں نیز آپ کی بیوی کو مطمئن رہنا چاہئے کہ جب شرعی شروط کے ساتھ آپ دونوں کا نکاح ہوا ہے تو آپ کا نکاح صحیح ہے۔اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔(شیخ محمد المنجد) بہنوئی کی بیٹی سے شادی:۔ سوال۔کیا میرے لیے بہنوئی کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ وہ میری بہن کی بیٹی نہیں(یعنی وہ بہنوئی کی پہلی بیوی سے پیدا شدہ ہے)؟ جواب۔اس سے نکاح جائز ہے کیونکہ وہ ان حرام کردہ عورتوں میں سے نہیں جنہیں مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ "حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں تمھاری لڑکیاں تمھاری بہنیں تمھاری پھوپھیاں تمھاری خالائیں بھائی کی لڑکیاں بہن کی لڑکیاں تمھاری وہ مائیں جنہوں نے تمھیں دودھ پلایا ہےتمھاری دودھ شریک بہنیں تمھاری ساس تمھاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں تمھاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر گناہ نہیں تمھارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں تمھارا دو بہنوں کو جمع کر لینا ہاں جو گزرچکا سوگزر چکا۔اور شوہر والی عورتیں الاکہ جو تمھاری ملکیت میں آجائیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دئیے ہیں اور ان عورتوں کے سوااور عورتیں تم پر حلال کی گئی کہ اپنے مال کے مہرسے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کے لیے۔"[1] مذکورہ آیت میں بہن کی بیٹیوں کو محرمات میں شامل کیا گیا ہے اور چونکہ سوال میں ذکر کی گئی لڑکی بہن کی بیٹی نہیں اس لیے اس سے شادی جائز ہے۔(شیخ عبدالکریم) مطلقہ بیوی کی بہن سے شادی:۔ سوال۔کیا کسی شخص کے لیے پہلی بیوی کی بہن سے شادی کرنا جائز ہے جبکہ پہلی کی عدت ختم ہو چکی ہو خواہ پہلی [1] ۔[البقرۃ :24۔23]