کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 129
دے۔تو جب آپ سچی توبہ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے تو اس کے بعد اس عورت سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ ہر توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) ایسی عورتیں جن سے بعض اوقات شادی جائز اور بعض اوقات ناجائز ہے سوال:کیا اسلام میں کچھ ایسی حالتیں ہیں کہ کسی عورت سے ایک حالت میں تو شادی کرنا جائز ہو لیکن اسی عورت سے دوسری حالت میں شادی کرنا منع ہو؟ جواب:جی ہاں ایسی حالتیں موجود ہیں جن کی چند ایک مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں: 1۔ کسی دوسرےکی عدت بسرکرنے والی عورت سے دوران عدت شادی کرنا حرام ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ.﴾ "اور جب تک عدت پوری نہ ہوجائے عقد نکاح پختہ نہ کرو۔"[1] اس میں حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے وہ عورت اپنے خاوند سے حاملہ ہو جس کی بنا پر نطفے میں اختلاط اور نسب میں شبہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جا ئے۔ 2۔ جب کسی عورت کے زانی ہونے کا علم ہو جائے تو اس سے نکاح کرنا حرام ہے۔لیکن جب وہ توبہ کر لے اور اس کی عدت پوری ہو جا ئے تو پھر اس سے نکاح ہو سکتا ہے۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ "زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کوئی اور نکاح نہیں کرتا اور مومنوں پر یہ حرام کردیا۔گیا ہے۔"[2] 3۔ مرد اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد اس سے دوبارہ شادی کرنا حرام ہے لیکن یہ نکاح اس وقت ہو سکتا ہے جب وہ کسی دوسرے مرد سے صحیح نکاح کرے اور وہ مرد اسے اپنی مرضی سے جب چاہے طلاق دے تو پھر یہ عورت اپنے خاوند کے لیے حلال ہو گی۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ [1] ۔[(البقرۃ : 235)] [2] ۔[(النور:3)]