کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 128
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا۔کیا تو اپنی بیٹی کے لیے اسے پسند کرگا۔وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے۔اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہو سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا۔لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا تو اپنی بہن کے لیے اسے پسند کرے گا؟وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہو سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا۔لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا تواپنی پھوپھی کے لیے اسے پسند کرے گا؟اس نے کہا:اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فداکردے۔اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا تو اپنی خالہ کے لیے اسے پسند کرے گا؟اس نے کہا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کردے اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہو سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اپنی خالاؤں کے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور دعا کی کہ اے اللہ!اس کے گناہ معاف کردے اور اس کے دل کو پاک صاف کردے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرمااسے عفت و عصمت والا بنادے۔ ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد وہ نوجوان اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوا۔[1] ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا ہے۔ "اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور جسے اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کیا ہو اسے حق کے سوا قتل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو بھی یہ کام کرے گاوہ اپنے اوپر سخت قسم کاوبال لائے گا اسے روز قیامت دو گناعذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور اعمال صالحہ بجالائیں۔ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔اور جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے تو وہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے۔"[2] زانی شخص زانیہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتا لیکن جب وہ دونوں اپنے اس فعل سے توبہ کر لیں تو پھر ان کا آپ س میں نکاح ہو سکتا ہے کیونکہ توبہ کی وجہ سے وہ زانی نہیں رہتے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: "زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتا اور زانیہ عورت بھی زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتی اور یہ ایمان والوں پر حرام کردیا گیا ہے۔"[3] اس لیے آپ کو اپنے اس فعل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرنی چاہیے اور اس کبیر گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ توبہ کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ بجالائیں۔ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف کر [1] ۔(مسند احمد (21708) [2] ۔الفرقان۔( 71۔68) [3] ۔(النور:3)