کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 125
1۔ میرے جیسے ایک نئے مسلمان کے لیے شادی کرنا کیسے ممکن ہے؟ 2۔ کیا جو شخص اسلام میں داخل ہوا ہے وہ اسی عورت سے شادی کر سکتا ہے جس نے نیا اسلام قبول کیا ہو اور کیا اسلامی ثقافت میں اس طرح کے فرق کی کوئی اساس پائی جاتی ہے؟ جواب۔گزارش ہے کہ آپ کے اسلام میں داخل ہونے سے آپ مسلمانوں کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اس طرح جو حقوق مسلمانوں کے ہیں وہی آپ کے ہیں اور جو چیز ان پر واجب ہوتی ہے وہی آپ پر بھی واجب ہوتی ہے لہٰذا اب آپ پر ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے کوئی اچھی سی دین دار عورت تلاش کر کے شادی کر لیں۔جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "تیرے ہاتھ خاک میں ملیں دین والی عورت کو اختیار کر۔"[1] خواہ یہ عورت ایک نئی مسلمان ہو یا پھر خاندانی طور پر پہلے سے ہی مسلمان ہو۔اس میں اہم چیز یہ ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونی چاہیے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے پھر دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ کسی دین والی لڑکی کو شادی کا پیغام بھیجیں اور وہ قبول نہ کرے یا اس کے گھروالے شادی کرنے سے انکار کر دیں تو آپ صبر و تحمل سے کام لیں اور تلاش کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ وہ آپ کو نیک اور صالحہ بیوی عطا فرمائے جو آپ کے لیے اپنے پروردگار کی اطاعت میں معاون ومددگار ثابت ہو۔ اور جس تفریق کے بارے میں آپ نے اشارہ کیا ہے اس کے متعلق اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "اے لوگو!ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچا نوتمہارے کنبے قبیلے بنا دئیے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیز گار ہے"یقین جانو اللہ تعالیٰ بڑا دانا اور باخبر ہے۔"[2] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "اے لوگو!تمھارا رب ایک ہے اور تمھاراباپ بھی ایک ہے خبردار!کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ [1] ۔[بخاری (5090)کتاب النکاح : باب الاکفاء فی الدین مسلم (1466)کتاب الرضاع : باب استحباب نکاح ذات الدین احمد (428/2)دارمی (133/2)ابو داؤد (2047)کتاب النکاح : باب مابومروبہ من تزویج ذات الدین ابن ماجہ (1858)کتاب النکاح :باب تزویج ذوات الدین ابو یعلی (6578) الحلیۃالابی نعیم (383/8دارقطنی (302/3)] [2] ۔[(الحجرات:13)]