کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 124
بیٹے کی غیر مدخولہ مطلقہ بیوی سے نکاح کا حکم:۔ سوال۔کیا والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرے جبکہ اس نے اس سے ہم بستری نہ کی ہو؟ جواب۔بیٹا کسی عورت سے شادی کر تو وہ باپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے خواہ وہ نسبی بیٹا ہو یا رضاعی اور خواہ اس(بیٹے)نے اپنی بیوی سے ہم بستری یاخلوت بھی نہ کی ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ۔ ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ "اور(حرام ہیں تم پر)تمھارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں۔[1] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔"[2](سعودی فتوی کمیٹی) نئے مسلمان ہونے والے شخص کے لیے شادی کیسے ممکن ہے؟ سوال۔مجھے آپ کی نصیحت کی ضرورت ہے میں پانچ برس قبل مسلمان ہوا ہوں۔میرا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور پانچوں نمازیں پڑھتا اور رمضان المبارک کے روزے رکھتا ہوں اور شادی کے لیے لڑکی تلاش کر رہا ہوں لیکن جن میں نے اپنی پسند کی لڑکی دیکھی تو وہ میری برادری کی نہیں تھی اس لیے اس کے گھر والے اس کی میرے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے۔ مذکورہ لڑکی اسلامی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے اور اصلاًبرصغیر سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ایشیائی لڑکی ہے۔یہ معروف ہے کہ ان ممالک کے لوگ اپنے بچوں کی شادی بالخصوص لڑکیوں کی غیر برادری میں نہیں کرتے کیونکہ ان کی ثقافت مختلف ہوتی ہے اگرچہ لڑکا کتنا ہی دین دار کیوں نہ ہو۔مسئلہ یہ ہے کہ میری اس لڑکی سے شادی نہیں ہو سکی کیونکہ میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور اس علاقے میں بسنے والے صحیح اور مستقیم قسم کے مسلمانوں کی اکثریت بھی برصغیر کے مسلمانوں کی ہی ہے یہاں پر میرا مندرجہ ذیل سوال ہے۔ [1] ۔[النساء :23] [2] ۔[صحیح :اروا ء العلیل 1876ابن ماجہ 1937]