کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 122
مسلمان کے لیے کافر سے محبت کرنا حلال نہیں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "آپ اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہر گز نہیں پائیں گے اگر چہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے قبیلے کے عزیز ورشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔"[1] 2۔ آپ کی یہ بات کہ آپ اس سے محبت رکھتی ہیں درست نہیں بلکہ آپ پر ضروری ہے کہ آپ اس محبت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ترک کردیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کو ترک کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں۔ جب یہ نوجوان اسلام کا اظہار کرے اور آپ کو اس کے اسلام میں سچائی محسوس نہ ہوتو آپ اس کا امتحان لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ۔ "اے ایمان والو!جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وہ تمھیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرویہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی وہ ان کے لیے حلال ہیں۔"[2] اور اس کا امتحان اس طرح ہو گا کہ آپ اس سے اللہ تعالیٰ اس کے دین اور اس کے رسول کے بارے میں سوال کریں اور اسی طرح اس کے(اسلام سے پہلے)اپنے دین کے بارے میں بھی کہ آیا اس نے اسے ترک کیا ہے یا نہیں اسی طرح اس کے اسلام کا یقین اس کی عبادات سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ان پر کتنا عمل پیرا ہے؟مثلاً وہ نماز کی ادائیگی کرتا ہے کہ نہیں اور خاص کر اگر کوئی قریب ہی مسجد ہے تو وہاں جا کرنماز ادا کرتا ہے کہ نہیں اور اسی طرح روزے رکھتا ہے کہ نہیں؟ جب کوئی شخص صحیح اور سچا اسلام قبول کر لے تو اس کے معاملات سے بھی اسلام جھلکتا اور ظاہر ہو تا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ حلال و حرام کے بارے میں سوالات کا اہتمام کرتا ہے اور جب ایک شخص ابھی نیا مسلمان ہوا ہو تو وہ اس کا زیادہ خیال کرے گا۔اسی طرح ان میں کفر یہ شعار پائے جاتے تھے وہ انہیں تبدیل کر دے گا اور جتنی بھی منکرات اور غلط کام ہیں وہ انہیں ترک کرنے کی کوشش کرے گا اور ایام جاہلیت میں جن جن گناہوں کابھی ارتکاب کرتا رہا ہے وہ انہیں بھی ترک کردے گا۔اس طرح اسلام قبول کرنے والے کے [1] ۔[المجادلۃ:22] [2] ۔[الممتحنہ:10]