کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 121
اولاً اسلام بلندی والاد ین ہے اور اس پر کوئی اور غالب نہیں آسکتا اور شادی میں مرد کو عورت پر فوقیت اور سربراہ حاصل ہے کیونکہ مرد میں جو رجولیت پائی جاتی ہے اور پھر یہ ہوسکتا ہے کہ مرد اپنی بیوی پر اثر انداز ہو جس کی بنا پر عورت اپنے دین پر عمل نہ کرسکے اور اس کے واجبات کی ادائیگی نہ کرپائے اور اس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر ہی دین کو چھوڑدے اور اسی طرح اولاد بھی دین میں اپنے والد کے تابع ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک شامل اورکامل دین ہے لیکن اس کے علاوہ باقی ادیان ناقص ہیں اور اس پر ہی اجتماعیت کی بنیادہے۔جو خاندان کی طبعیت اور حسن معاشرت پر بھی اثر انداز ہوتاہے وہ اس طرح کہ جب مسلمان شخص کسی کتابی لڑکی سے شادی کرے گا تو مسلمان اس لڑکی کی کتاب اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اس طرح وہ اس کے دین پر مجمل ایمان رکھنے کی بنا پر اس کے دین اور مبادیات کا احترام کرے گا جو کہ آپس میں تفاہم اور سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ ہے اور اس طرح وہ عورت اپنی کتاب کی وجہ سے اسلام قبول کرلے گی۔لیکن اگر اہل کتاب کے کسی کافر نے مسلمان عورت سے شادی کی جو عورت کے دین پر ایمان ہی نہیں رکھتا تو اس سے عورت اپنے دین اور اس کی مبادیات کا احترام نہیں پائے گی۔اس طرح نہ تو ان کی آ پس میں بن پا ئے گی اور نہ ہی تفاہم اختیار کرسکیں گے کیونکہ وہ تو اس کے دین پر مکمل طور پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔یوں اس شادی کی مکمل طور پر ضرورت ہی نہیں رہ جاتی جس وجہ سے اسے ابتدائی طور پر ہی منع کردیا گیا ہے۔[1] لہذا ایسی صورت میں دوبارہ نکاح کیا جائے گا۔(واللہ تعالیٰ اعلم)(شیخ محمد المنجد) جس سے شادی کا ارادہ ہے اس کے مسلمان ہونے کا یقین کیسے کیا جائے؟ سوال۔میں ایک قبول اسلام کا ارادہ رکھنے والے غیر مسلم سے محبت کرتی ہوں۔لیکن اگر وہ دل سے اسلام قبول نہ کرے تو اس کا یہ اسلام مقبول ہو گا۔مجھے علم ہے کہ میرے والدین اسے قبول نہیں کریں گے کیونکہ اس کے والدین میں ایک سفید فام اور دوسرا سیاہ فام ہے۔میں اپنے والدین کو کھونا نہیں چاہتی اور پھر یہ بھی ہے کہ اگر وہ شخص اسلام قبول بھی کر لےتو مجھے اس کا کس طرح علم ہو گا کہ وہ اسلام پر ہی عمل پیرا رہے گا اور مرتد نہیں ہو گا؟ جواب۔1۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے اور اسلام میں ثابت قدم رکھے آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ کسی [1] ۔[مزید تفصیل کے لیے دیکھئے۔اضواء البیان (8/164۔156)]