کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 119
تمہاری بہن کی بیٹیاں(بھانجیاں)۔"[1](سعودی فتویٰ کمیٹی) اپنے بھتیجے کی بیٹیوں سے نکاح کا حکم:۔ سوال۔میرا ایک بھائی ہے اس کا ایک بیٹا ہے اور اس بیتے کی کچھ بیٹیاں ہیں۔اور میں(اس کی)ایک بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو کیا میرے لیے اس سے شادی جائز ہے یا نہیں؟ جواب۔آپ کا مذکورہ بھائی خواہ سگا ہو یا باپ کی طرف سے ہو یا ماں کی طرفسے ہو یارضاعی ہو آپ پر حرام ہے کہ آپ اس کی کسی بیٹی سے یا اس کے بیٹے کی بیٹی سے یا اس سے بھی نیچے تک(یعنی بیٹے کی بیٹی کی بیٹی وغیرہ)کسی سے نکاح کریں،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ ..... وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ﴾ "حرام کردی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں،تمہاری بیٹیاں۔۔۔تمہارے بھائی کی بیٹیاں(بھتیجیاں)تمہاری بہن کی بیٹیاں(بھانجیاں)تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں۔"[2]اور حدیث میں ہے کہ: ﴿يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ "رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔"[3](سعودی فتویٰ کمیٹی) کافر کا مسلمان عورت سے نکاح کے بعد قبول اسلام:۔ سوال۔ایک ہندو نے مسلمان بیوہ سے شادی کی اور کچھ سال بعد بیوی کے حسن سلوک کو دیکھتے ہوئے اسلام [1] ۔[(النساء۔23)] [2] ۔[النساء۔23۔] [3] ۔صحیح ارواء الغلیل (1876) صحیح ابن ماجه ابن ماجه(1937) کتاب النکاح باب یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب صحیح نسائی ،نسائی(3301) کتاب النکاح باب ما یحرم من الرضاع غایة المرام(220)