کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 115
اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا: "اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر کوئی راہ نہیں بنائی۔" نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "اسلام بلندی والاد ین ہے اور اس پر کوئی اور دین بلند نہیں ہوسکتا۔"[1] اور جب کوئی مسلمان عورت یہ جانتے ہوئے کہ کافر کے ساتھ نکاح حرام ہے پھر بھی اس سے نکاح کرتی ہے تو و ہ زانیہ ہوگی اور اس کی سزا زنا کی حد ہے۔لیکن اگر اسے اس حکم کا علم نہیں تو پھر وہ معذور ہے اور اس کا عذر قابل قبول ہوگا۔لیکن ان دونوں کے درمیان فوری طور پر علیحدگی کرادی جائے گی جس میں طلاق کی ضرورت ہی نہیں۔اس لیے کہ ان کا نکاح ہی باطل ہے اور جب نکاح ہوا ہی نہیں تو پھر طلاق کیسی؟ اس بنا پر اس مسلمان عورت کو جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ عزت دی اور مسلمان بنا کر عزت وتکریم سے نوازا اور اس کے ولی کو چاہیے کہ اس(کافر سے نکاح)سے بچیں اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی بھی پاسداری کریں اور اسلام کی عزت کو ہی عزت سمجھیں۔(شیخ عبدالکریم) بے نماز مرد کا بے نماز عورت سے نکاح:۔ سوال۔ایک آدمی بے نماز ہے اور اس نے بے نماز عورت سے ہی نکاح کرلیا ہے تو اس کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ جواب۔اگر وہ دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلیں تو وہ اپنے نکاح پر باقی رہیں گے اور اگر ان دونوں میں سے صرف ایک توبہ کرے تو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی ہاں اگر عدت پوری ہونے تک ان میں سے بے نماز توبہ کرلے(تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ہی اکھٹے ہوجائیں گے)۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) نصرانی عورت سے شادی کے بعد اسے قبول اسلام پر مجبور کرنا:۔ سوال۔میں ایک نصرانی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اسے اسلام قبول کرنے کاکہا تواس نے صاف انکار کردیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اسلام قبول نہیں کرے گی۔پھر میں نے اپنے بعض [1] ۔[حسن :صحیح الجامع الصغیر(2778)]