کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 110
دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔نیز صحت نکاح میں جگہ کا کوئی دخل نہیں۔اس سے صحت نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اے سائلہ محترمہ آپ کے سوال نے ہمیں اس طرف متنبہ کیا ہے آپ اس معاملہ میں دین اسلام کی معرفت کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں شاید کہ یہ ایک بڑی حقیقت کی تلاش کا پیش خیمہ اور سبب ہو کہ دین حق کون سا ہے؟تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کے سامنے چند ایک سوال رکھ سکیں؟ 1۔ کیا آپ سعادت مندی اور خوشی کی زندگی چاہتی ہیں؟ 2۔ کیا آپ اطمینان قلب تلاش کرنا چاہتی ہیں؟ 3۔ کیا آپ حقیقت تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ 4۔ کیا آپ اپنی اولاد کے لیے سیدھی اور سچی زندگی چاہتی ہیں؟ تو پھر آپ کے علم میں ہو نا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو ایک عظیم مقصد اور غرض و غایت کے لیے پیدا فرمایا ہے جو کہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت ہے۔ "میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے۔کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں نہ تو میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ ہی میری چاہت ہے کہ وہ مجھے کھلائیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔"[1] اور اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کی دعوت دینے کے لیے انبیاءورسل کو مبعوث فرمایا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان کچھ یوں ہے کہ۔ "ہم نے ہراُمت میں رسول بھیجا کہ لوگو!صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی۔پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟[2] پھر اللہ تعالیٰ نے یہ رسالت و نبوت کا سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر کے انہیں خاتم النبیین بنا دیا۔ "لوگو!تمھارےمردوں میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے بھی باپ نہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم [1] ۔الذاریات:57۔ [2] ۔النحل:36۔