کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 107
یہ وضاحت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اس کا نکاح حرام کیا ہے ہاں اگر وہ اسلام قبول کرلیتی ہے تو پھر نکاح ہوسکتا ہے۔پھر اگر وہ اسلام قبول کرلے تو وہ اس سے شادی کرلے اور اگر وہ اپنے دین"ہندومت" پر ہی قائم رہے تو پھر آپ کے دوست کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس شادی سے رک جائے بلکہ صبر سے کام لے۔اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے کوئی اور بہتر لڑکی عطا فرمادے گا۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور اس کوہدایت نصیب فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے بچائے۔(شیخ محمد المنجد) کیا مسلمان مرد کسی غیر مسلم عورت سے شادی کرسکتا ہے؟ سوال۔مجھے اسلام کے بارے میں ایک شبہ ہے کیا آپ اس کی وضاحت کرسکتے ہیں؟کیا مسلمان مرد کے لیے کسی غیر مسلم عورت سے شادی کرناجائز ہے خواہ وہ شادی کے بعد بھی اسلام قبول نہ کرے؟ جواب۔مسلمان مرد کسی غیر مسلم عورت یعنی یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے اس کے علاوہ کسی اور دین سے تعلق رکھنے والی عورت سے مسلمان شادی نہیں کرسکتا۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا مندرجہ ذیل فرمان ہے: "تمام چیزیں آج تمہارے لیے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لیے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کردیا پوشیدہ بدکاری کرو جو ایمان کے ساتھ کفر کیا ہے اس کے اعمال ضائع ہیں اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔"[1] "امام طبری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اور تم سے پہلے جنھیں کتاب دی گئی ان کی پاکدامن عورتیں"یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے عرب اور باقی سب لوگوں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور وہ تورات اور انجیل پر عمل کرنے والے یہودی اور عیسائی ہیں ان کی آزاد اور پاکدامن عورتوں سے بھی نکاح کرسکتے ہو۔ "جب تم انہیں ان کے مہر ادا کردو"یعنی جن مسلمان اور ان کتابی پاکدامن عورتوں سے تم نکاح کرو [1] [(المائدہ:5)]