کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 106
ہے۔تاکہ کفار سے مشابہت نہ ہو اور وہ اس کفار کے ساتھ خاص نام کی طرف نہ جھکے یا پھر اسے اس تہمت کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ ابھی تک اس نے اسلام ہی قبول نہیں کیا۔[1] اور جب اس کے نام کی تبدیلی ہی آپ کے والدین کو راضی کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ اس لڑکی کو نام بدلنے پر راضی کریں تاکہ آپ کے والدین راضی ہوجائیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپ اس کے لیے استخارہ ضروری کریں تاکہ اللہ تعالیٰ آ پ کے لیے وہ چیز اختیار کرے جو آپ کے لیے دنیا وآخرت میں بہتر ہو۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو اپنی رضا اور محبت والے کام کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے لیے ہماری بیویوں اور اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) مسلمان کی ہندو لڑکی سے شادی پر تعاون:۔ سوال۔میرا ایک دوست ایک ہندو لڑکی سے محبت کرتاہے اس لیے کہ اس کے خاندان والے آرتھوڈکس عیسائی ہیں اور وہ اس کے مخالف ہیں۔تو اگر کیا میں نے اس لڑکی سے شادی کرانے میں اس نوجوان کا تعاون کیا تو گناہگار ہوں گا؟ جواب۔کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم عورت سے شادی کرے صرف وہ اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے۔اگراس نے ان کے علاوہ کسی اور مذہب کی غیر مسلم عورت سے شادی کی تو ان کا نکاح باطل ہے بلکہ وہ نکاح نہیں بے حیائی اور ایسا کرنے والا کبیرہ گناہ کامرتکب ہوگا۔ لہذا آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آ پ اپنے دوست کی ہندو لڑکی سے شادی کرانے میں مدد تعاون کریں یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اورگناہ ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ "نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہو اور گناہ اور ظلم وزیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو۔"[2] آپ پر ضروری ہے کہ آپ اسے نصیحت کریں کہ وہ اس ہندو لڑکی کو اسلام کی دعوت دے اور اس کے سامنے [1] [(دیکھیں: الاجابات على أسئلة الجاليات(ص/4-5)] [2] [(المائدۃ:2)]