کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 101
دینے والے بن جاؤ۔"گووہ تمہارے اپنے خلاف ہو یاماں باپ،رشتہ دار اور عزیز واقارب کے،وہ شخص اگر امیر ہو یا غریب تو اللہ تعالیٰ کو دونوں کے ساتھ زیادہ تعلق ہے،اسلیے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اوراگر تم غلط بیانی یا پہلو تہی کروگے تو جان لو جو کچھ تم کروگے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔"[1] محترم عزیز مولانا صاحب:۔ میں یہ لکھ رہی ہوں مجھے اُمید ہے کہ آپ میری مشکل میں میرا تعاون کریں گے جو کہ مجھے ایک سعودی مسلمان سے درپیش ہے۔اس نے مجھے سے ایک برس قبل شادی کی اور شادی کے دو ماہ مجھے چھوڑ کر چلاگیا۔مجھے اس نے صحیح طور پر طلاق بھی نہیں دی۔لیکن مجھے کسی نا معلوم شخص کی جانب سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس نے مجھے میرے خاوند کا پیغام دیا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے،جو کچھ ہوا وہ اتنا ہی ہے۔ میں نے جب شادی کی تھی تو یہ شادی عرف عام کے مطابق تھی۔اور دو گواہ بھی موجود تھے۔میرے علم کے مطابق تو یہ شادی اسلامی طریقے پر تھی لیکن اس کے باوجود کسی بھی سرکاری ادارے سے شادی کی تصدیق نہیں کرائی گئی۔میر اشوہر چاہتا تھا کہ یہ شادی خفیہ رہے تاکہ وہ سعودیہ سے اپنے خاندان والوں سے مل آئے،مجھے اس نے یہ بھی اجازت نہیں دی کہ میں اپنے خاندان اور دوست احباب کو ا س شادی کا بتاؤں حتیٰ کہ یہاں پر مسلم کیمونٹی کو بھی نہیں بتانے دیا۔ میں نے ایک نئی مسلمان ہونے کے ناطے اس پر بھروسہ اور یقین کیا اور اس کی سچائی کو تسلیم کیا کہ وہ سعودیہ سے واپسی پر سب معاملات حل کرلے گا میں امریکہ رہتی ہوں؟ جواب:۔اسلام میں عقد نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں۔جب آپ نے ولی یا اس کے قائم مقام کسی بھی شخص کی غیر موجودگی میں نکاح کیا ہے تو یہ نکاح صحیح نہیں۔اس لیے آپ کو طلاق کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جب نکاح ہی صحیح نہیں تو طلاق چہ معنی دارد؟ ہم تو اس شخص کے تصرف پر تعجب کررہے ہیں کہ جس نے شریعت اسلامیہ کا بھی خیال نہیں کیا اور پھر نہ ہی آپ کی حالت کا ہی خیال کیا کہ آپ کو ایسے ہی بغیر کوئی وضاحت کیے ہی چھوڑ کرچلا گیا۔اللہ تعالیٰ ہی اس سے حساب لے گا اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔دکھ اور درد کی بات تو یہ ہے کہ ایک نیا مسلمان شخص جس نے ابھی اسلام قبول کیا ہے اپنے سامنے ایک قدیم مسلمان کو پاتاہے تو وہ اس کے لیے نمونہ ہونا چاہیے تاکہ وہ ا س کی اقتداء کرسکے چہ جائیکہ اسے اس سے اسلامی شریعت کے خلاف رویہ ملے اور پھر بالخصوص [1] [(النساء:135)]