کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 398
درمیان جو سب سے نیچے ہے اور ساتویں آسمان کے درمیان جو سب سے اوپر ہے) مراد ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کا امر اور قضا ان میں جاری ہے اور اس کا حکم ان کے درمیان نافذ ہے۔ انتھی، ([1])
اور اسی طرح قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا، اس کی زمینوں میں سے ہر زمین میں اور آسمانوں سے ہر آسمان میں اس کی مخلوقات میں سے ایک نوع کی مخلوق ہے اور اس کے امر میں سے ایک امر ہے اور اس کی قضا میں سے ایک قضا ہے۔ ([2])
امام بغوی کی تفسیر میں ہے: امر سے مراد وہ ہے، اللہ تعالیٰ جو ان کے درمیان عجائبات تدبیرات کو ایجاد کرتا ہے۔ مثلا بارش اتارتا ہے، گھاس اگاتا ہے، دن اور رات لاتا، گرمی وجاڑا ظاہر کرتا، حیوانات مختلف صورتوں میں پیدا کرتا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں نقل کرتا ہے۔ انتھی۔
تفسیر رازی اور خازن میں بھی اس کی مثل لکھا ہے۔ اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔ ([3])
تو خلق و امر، قضا و قدر اور مختلف شکلوں والے حیوانات کے ہونے سے یہ متعین نہیں ہوتا کہ خلق اور حیوان بھی نوع انسان اور ان کے پیغمبر ہیں، بلکہ اگر " امر " کی تفسیر وحی کے ساتھ ثابت ہو جائے تو وحی سے مراد ’’الہام‘‘ ہو گا چنانچہ آیت:
﴿ وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ ۔۔۔﴾ (سورة النحل: 68)
’’اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم بھیجا۔‘‘
کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے وہ وحی اصطلاحی مراد نہیں۔ اور آیت کریمہ سے یہ بات صریح ثابت ہوتی ہے کہ اس سے آسمان اور زمین کی تخلیق اور ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا جاری ہونا، ان میں عرشِ الٰہی سے لے کر نیچے کی زمین تک اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عام ہونے اور اس کے علم کا تمام مخلوقات کو محیط ہو جانے کا بیان مقصود ہے، نہ کہ وجود نوع انسانی اور ان کے پیغمبروں کا زمین کے طبقات کے
[1] ۔جلالین: 476، طبع مصر، سورت طلاق