کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 397
سے کام نہیں چلتا۔ اسی لئے ابن کثیر نے اس اثر کو امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کر کے کہا: کہ یہ اور اس کی امثال جب ان کی سند معصوم (صلی اللہ علیہ وسلم) تک صحیح طور سے نہ پہنچے، تو انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے، انتہی۔ ابن کثیر
دہم:
کہ روایت کی صحت میں شرط ہے کہ راوی ضابط ہو۔ اور عطاء بن سائب جس اثر کو ابو الضحی سے ابن عباس سے روایت کرتا ہے نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم کے خطبہ میں اس کو اہل اختلاط سے شمار کیا۔ غرض کہ اس اثر میں جرح کے اسباب جیسے شذوذ اور عدمِ متابعت اور راوی کا اختلاط وغیرہ کثرت سے موجود ہیں، اور اس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ ایک ضعیف اثر ہے جسے فحول علماء نے قبول نہیں کیا۔ پس ایسے بے پتے اثر پر کسی حکم کی بنا نہیں ہو سکتی، لیکن صاحبِ جلالین کا قول:
يَنْزِل بِهِ جِبْرِيل مِنْ السَّمَاء السَّابِعَة إلَى الْأَرْض السَّابِعَة ۔ ([1])
’’جبرائیل علیہ السلام وحی کو لے کر ساتویں آسمان سے ساتویں زمین تک اترتے ہیں۔‘‘
جس سے ظاہر میں تو اثر مذکور کی طرف کچھ اشارہ نکلتا ہے سو شیخ سلیمان جمل نے جلالین کے حاشیہ میں قول مذکور کے تحت لکھا ہے کہ ملا علی قاری نے کہا: ہم نے مفسرین میں سے اور کسی کا یہ قول نہیں پایا، جس نے اس امر کی تفسیر ’’وحی‘‘کے ساتھ کی، اس نے " بَيْنَهُنَّ " کی تفسیر میں کہا: (اس اوپر کے درمیان جو پہلی ہے اور ساتویں آسمان کے درمیان جو سب سے اوپر ہے۔ اور ملا علی قاری کا یہ کہنا اس پر مبنی ہے کہ وحی تکلیف بالاحکام ہو اور وحی سے یہی معنی مراد لینا ضروری نہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ وحی سے التصرف في الكائنات مراد لیں، خطیب اور اکثر کی عبارت اس پر دلالت کرتی ہے کہ: وحی سے مراد ’’قضا اور قدر‘‘ ہے تو اس تفسیر پر " بَيْنَهُنَّ " سے اقصیٰ زمین کے