کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 396
لائے ہیں پس مطلوب ثابت نہ ہوا اور جو ثابت ہے وہ مطلوب نہیں۔ ہشتم: یہ کہ اگر اس اثر کو صحیح بھی مان لیں، تب بھی مجمل غیر مبین ہے، اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ چھ طبقوں کے اوادم و خواتم زمانہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام اور زمانہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر تھے یا ان کے زمانہ یا ان کے زمانہ کے بعد ہوں گے اور مجمل روایت بدون بیان محل قبول اور بااعتماد نہیں۔ نہم: یہ کہ اس کو صحیح تسلیم کرنے کے بعد بھی علماء نے اس کی تاویل کی ہے۔ قسطلانی کی رائے: ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں بیہقی کا قول نقل کر کے رقمطراز ہیں کہ: اس میں یہ بحث ہے کہ اسناد کی صحت سے متن کی صحت لازم نہیں آتی۔ جیسا کہ اس فن کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ سو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سند صحیح ہوتی ہے اور متن بھی شذوذ ہوتا ہے، یا ایسی علت جو اس کی صحت میں خارج ہے اور ایسے (یعنی عقائد کے) مسائل ضعیف احادیث سے ثابت نہیں ہو سکتے۔ اور اگر اس کی نقل کو صحیح مانا جائے تو اس پر محمول ہو گا کہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے اسے اسرائیلیات سے اخذ کیا ہے۔ اور اگر اس کے ثبوت کو مان لیا جائے تو احتمال ہے کہ اس کا یہ معنی ہو کہ، وہاں جن لوگوں کی اقتداء کی جاتی ہے وہ ان ناموں سے موسوم ہیں اور وہ رسولوں کے رسول ہیں جو جنوں کو اللہ کے پیغمبروں کی طرف سے تبلیغ احکام کرتے ہیں اور ہر ایک اس نبی کے نام سے بلایا جاتا ہے جس کی طرف سے تبلیغ کرتے ہیں۔ انتهي كلام القسطلاني تو جب یہ ثابت ہو گیا کہ اس اثر، یعنی اس کے متن کے صحیح ہونے میں، بلکہ سند کے صحیح ہونے میں بھی کلام ہے تو اس سے استدلال درست نہ ہوا اور ایسے مسائل کے ثابت کرنے کے لئے روشن دلیل اور نصِ جلی چاہیے، ایسی جگہ مظنونات اور محتملات
[1] ۔ آوادم، آدم کی جمع، خواتم، خاتم کی جمع جو کہ خاتم النبیین میں ہے۔ (خلیق)