کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 395
حاکم نے مستدرک میں ان کی صحت کا حکم لگایا اور صحیحین کی احادیث کی مانند سمجھا اس کو بڑے علماء نے خطا کی جانب منسوب کیا اور اس کا انکار کیا۔ اس لئے امام ذہبی نے کہا: کہ کسی کو یہ جائز نہیں کہ حاکم کی تصحیح پر مغرور ہو جب تک وہ میرے تعقبات اور تلحیقات نہ دیکھ لے۔ انتہی یہ حاکم کی مرفوع روایات کا حال ہے صحابہ کے آثار کا تو ذکر ہی کیا۔ اور خصوصا اس اثر کے بارے میں سیوطی نے تدریب الراوی شرح تقریب النووی میں کہا کہ: حاکم کے اس اثر کو صحیح کہنے سے مجھے ہمیشہ تعجب آتا رہا، یہاں تک کہ میں نے بیہقی کو دیکھا کہ اس نے بھی اس کے حق میں کہا کہ: اس کی اسناد صحیح ہے لیکن نہایت شاذ ہے۔ انتہی۔ غالبا بیہقی نے حاکم کے اعتماد پر اس کو صحیح کہہ دیا ہو گا مع ہذا اس میں شذوذ کی علت کو ثابت کر دیا اور کہا کہ مجھے اس روایت میں ابو الضحی کا کوئی متابع معلوم نہیں۔ اور اسی کی مثل شوکانی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا، تو شذوذ اور عدم متابعت کی وجہ سے اس اثر کی قوت کمزور ہو گئی اور بطورِ احتجاج کے ناقابلِ حجت رہا۔ ششم: یہ کہ محققین اہل تفسیر اور اہل حدیث کے نزدیک یہ اثر اسرائیلیات سے ماخوذ ہے جیسا کہ ابن کثیر نے کہا۔ اور اسرائیلی روایت تصدیق اور قبول کے قابل نہیں اور اس پر ایسے احکام کی بنا نہیں ہو سکتی۔ ہفتم: یہ کہ بہت کم مفسرین نے اس اثر کو آیت کریمہ کی تفسیر میں نقل کیا اور اکثر مفسرین نے اس کی پرواہ نہیں کی اور یہ دلیل اس اثر کے غیر مقبول اور غیر معتبر ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اور کچھ مفسرین نے اس کو ذکر بھی کیا اور انہوں نے بھی اس سے اَوادِم ([1]) اور خَواتم کے وجود پر دلیل نہیں لی، بلکہ صرف زمین کے سات طبقے ہونے کی تائید میں