کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 394
سوم:
یہ کہ قرآن مجید کی تفسیر جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اکثر کی سند ان کی بارگاہِ بلند تک متصل اور مسلسل نہیں پہنچتی۔ اکثر میں یہ بات ہے کہ ان کی طرف صرف منسوب ہے اور حقیقت میں یہ کسی اور کی تفسیر ہے، اسی لئے محققین اہل تفسیر اس پر پورا اعتماد نہیں کرتے، اور دوسرے ائمہ فن کی شہادت کے بغیر اسے قبول نہیں کرتے۔ ہاں! جو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری وغیرہ میں صحیح سندوں سے ثابت ہو گیا وہ بہرحال مقبول ہے اور اس اثر کا ان کتب صحاح اور سنن میں کوئی پتہ و نشان نہیں۔
چہارم:
یہ کہ اس اثر کا متن مضطرب ہے جو سوال میں مذکور ہے، وہ حاکم کے نزدیک اس اثر سے مروی ہے اور عبد بن حمید اور ابن المنذر کے نزدیک اس لفظ سے ہے:
ما يومنك ان اخبرك بها فكتفر
’’یعنی تجھے کس چیز نے اس سے بے خوف کیا کہ اگر میں تجھے اس آیت کی تفسیر کر دوں تو تو انکار کر دے۔‘‘
اور ابن خزیمہ کے نزدیک اس لفظ سے مروی ہے:
لو حدثتكم بتفسيرها لكفرتم و كفركم تكذيبكم بها
’’اگر تم کو اس کی تفسیر سناؤں تو تم منکر ہو جاؤ اور تمہارا انکار اس کا نہ ماننا ہے۔‘‘
اور اضطراب روایت بھی اکثر اہل علم کے نزدیک جرح کا سبب ہے۔
پنجم:
یہ کہ اس اثر کے روایت کرنے والوں سے کسی نے اس کو صحیح نہیں کہا بجز حاکم کے مستدرک میں۔ اور حاکم کی تصحیح دوسرے فن کے اماموں کی شہادت کے سوا علمائے حدیث کے نزدیک مقبول نہیں۔ بستان المحدثین میں ہے کہ: بہت سی وہ احادیث جن کو