کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 392
الْعَلِيمُ ﴿٨١﴾ ۔۔۔ (سورة يٰس: 81) ترجمہ:’’ کیا جس (اللہ) نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس میں اتنی قدرت نہیں کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کر دے کیوں نہیں وہ بڑا پیدا کرنے والا بڑے علم والا ہے۔‘‘ اور بحکم ﴿ إِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا ﴿٢٨﴾ ۔۔۔ (سورة الانسان: 28) ’’ اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل لائیں۔‘‘ یعنی اس عالم جیسے صد جہاں بلکہ کل ممکنات کے پیدا کرنے پر قادر ہے: جمل حاشیہ جلالین میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔۔۔﴾ (سورة الطلاق: 12) کے ذیل میں جو آیت مذکورہ کی جز ہے، لکھا ہے: یعنی اللہ تعالیٰ، قدیر، کامل قدرت والا ہے، پس اس جہاں جیسا اور جہان، اور اس سے بھی عجیب جہاں اور بے انتہاء عوالم عمدہ سے عمدہ پیدا کر سکتا ہے، اور اس دعویٰ کی دلیل اس جہاں کا پیدا کرنا ہے کیونکہ جو ذات ایک ذرہ کو عدم سے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اس سے ادنیٰ چیز اور اس جیسی اور اس سے عمدہ اور عمدہ سے عمدہ بے انتہاء چیزیں پیدا کر لے۔ اس لئے پیدا کرنے میں تھوڑے اور بہت، اچھے اور برے میں فرق نہیں۔ ﴿ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۔۔۔ ﴾ (سورة الملك: 3) ’’ کیا رحمٰن کے بنانے میں کچھ فرق دیکھتا ہے۔‘‘ لیکن قدرت کے عام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ بالفعل خارج میں واقع ہوں۔ کیونکہ ماتریدیہ کے نزدیک قدرت اور تکوینِ متغائر دو صفتیں ہیں اور قدرت کا اثر یہ ہے کہ مقدور کا قادر سے بالنظر الی ذاتہ صادر ہونا ممکن ہے، یہ ضروری نہیں کہ مقدور بالفعل واقع بھی ہو، اور تکوین کا اثر مکون کا بالفعل واقع اور موجود ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ زمین کے باقی چھ طبقات میں اس جہاں کی مثل اور جہانوں کے خارج میں موجود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر نہیں دی اور جس چیز پر کلام الٰہی اور سنت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ناطق نہیں تو ایک مومن مسلمان کے اس کو اپنی طرف سے ثابت
[1] ۔تفسیر قرطبی 28/175