کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 384
کے روز مغرب اور عشاء کو جمع کر لیا جائے۔ انتہی
حاصل کلام:
غرضیکہ اس باب کی احادیث کو جمع کرنے اور علماء کے مذاہب کی تتبع کے بعد یہ امر ثابت اور منقح ہوا کہ:
حضر میں بلا عذر جمع بین الصلوتین کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو منقول ہے وہ جمع صوری پر محمول ہے، اور جن علماء نے حضر میں بلا عذر جمع کو جائز کہا ان کے نزدیک یہ شرط ہے کہ اس کو عادت نہ بنایا جائے۔ سو مذہب جمہور پر عمل کرنا ہی لازم و متعین ہوا۔ واللہ اعلم
(والله الموفق)
[1] ۔ طبع پاکستان، لاہور ص 977، یہ کتاب اب 2 جلدوں میں ترجمہ کے ساتھ مکتبہ سلفیہ لاہور نے طبع کر دی ہے اس کے مترجم مولانا محمد داؤد راغب رحمانی م 1977ء مرحوم ہیں۔ (جاوید)