کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 383
اس کی اسناد میں حنش بن قیس ہے اور وہ ضعیف ہے اور انہی دلائل میں سے ترمذی کا قول سنن کے اخیر کتاب العلل میں ہے آلخ یعنی اس کتاب کی تمام روایات دو کے علاوہ معمول بہا ہیں۔ پھر شوکانی نے کہا کہ: تجھ پر مخفی نہ رہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور جمہور کے اس پر عمل نہ کرنے سے اس کی صحت میں تو کوئی نقصان نہیں مگر اس سے استدلال قائم نہیں ہو سکتا۔ اور بعض علماء نے اس پر عمل کیا ہے جو ذکر ہو چکا ہے اگرچہ ترمذی کے کلام سے یہ ظاہر ہے کہ: اس پر کسی نے عمل نہیں کیا لیکن دوسروں کی کلام سے بعض اہل علم کا عمل کرنا ثابت ہوتا ہے، مثبت نافی پر مقدم ہوتا ہے۔ سو اولی یہ ہے کہ اعتماد اس پر کیا جائے جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا، یعنی جمع سے مراد جمع صوری ہے بلکہ اسی کا قائل ہونا لازمی ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں۔ اور ہم نے اس سے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام " تشنيف السمع بابطال أدلة الجمع " رکھا جو اس پر واقف ہونا چاہیے، اس کی طرف رجوع کرے۔ اور علامہ ابوالبرکات مجد الدین ابن تیمیہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے المنتقيٰ ([1]) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث کے بعد کہا: میں کہتا ہوں: اس حدیث کے مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بارش، خوف اور مرض کے لئے جمع جائز ہے اور اس حدیث کے ظاہر منطوق پر باقی رہے گا اور مستحاضہ کے لئے جمع کے جائز ہونے میں صحیح حدیث وارد ہوئی ہے جبکہ مستحاضہ بھی ایک قسم کا مرض ہے۔ موطا میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے روایت کیا کہ جب امیر بارش کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ جمع کر لیتے۔ اور اثرم نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا کہ: یہ سنت سے ہے کہ بارش
[1] ۔نیل الاوطار 3/219 [2] ۔حاکم 1/275، بیہقی 3/169 تمہید 5/77، طبرانی 11/172۔ (قال دارقطنى حنش هذا ابو على الرجى متروك) ابن کثیر 1/484۔ قال ترمذى وهو حنش بن وهو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه احمد وغيره قال البخارى احاديثه منكره ولا يكتب حديثه۔ ترمذی احمد شاکر 1/356۔ امام شوکانی اس پر حدیث کو موضوع میں شمار کیا ہے۔ فوائد۔ 15 اور عقیلی نے ولہ غیر حدیث لا يتابع عليه ولا يصرف الابه۔ عقیلی 1/248۔ نصب الرایہ میں حنش بن قیس کے متعلق لکھا ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے متروک اور ابن حبان نے ضعفاء میں شمار کیا ہے۔ نصب الرایہ 2۔196۔ ابن حبان 1/243 امام ذہبی نے میزان میں لکھا کہ حسین بن قیس۔ ابو علی و لقبہ حنش۔ قال ابو زرعہ و ابن معین ضعیف۔ و قال نسائی : لیس بثقۃ۔ قال مرۃ متروک۔ قال السعدى احاديثه منكره جدا ومن مناكيره عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنه تہذیب 2/264۔ المیزان 1/546) (جاوید)