کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 376
حضر میں جمع بین الصلوٰتین کا حکم سوال: جمع بین الصلوٰتین فی الحضر کی حدیث صحیح ہے یا نہیں اور اس جمع کا کیا حکم ہے؟ جواب: امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: تمام روایات جو اس کتاب میں ہیں وہ معمول بہا ہیں اور ماسوا روایتوں کے علماء نے اسے اختیار کیا اور ان پر عمل کیا ہے۔ ایک حدیث: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر، مغرب و عشاء کو بغیر خوف اور سفر کے جمع کیا۔ ([1]) دوسری حدیث: إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ یعنی’’ جب کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے مارو اور جب چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر ڈالو۔‘‘ ([2]) اور اس حدیث پر اہل علم کا عمل نہ کرنا اس لئے ہے کہ اس کا منسوخ ہونا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ ترمذی نے حدیث مذکور کے بعد حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ، ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آپ نے اسے مارا اور قتل نہ کیا۔ اور
[1] ۔ جامعہ سلفیہ بنارس (ہند) کے استاد جناب رئیس احمد ندوی حفظہ اللہ نے اللمحات الباری الی ما انواری الباری من الظلمات کے نام سے کتاب تحریر کی ہے جس میں احناف کا چہرہ دکھایا گیا ہے یہ کتاب ہر اہل علم کے علاوہ مفید عام ہے۔ (جاوید)