کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 374
([1]) اور دونوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کا مرجئہ کے خطاکار ہونے پر اجماع ہے کہ ثواب و عذاب عمل پر مرتب ہوتا ہے پس صحابہ و تابعین کا مخالف بےشک گمراہ اور مبتدع ہے اور دوسرے مسئلہ پر سلف کا اجماع ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ دلائل متعارض ہیں۔ بعض آیات و احادیث اور آثار اس معنی پر دلالت کرتے ہیں کہ ایمان غیر عمل ہے بہت سے دلائل اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ: ایمان کا اطلاق قول و عمل کے مجموعہ پر آتا ہے اور یہ نزاع لفظی معلوم ہوتا ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ: عاصی ایمان سے خارج نہیں ہوتا اگرچہ عذاب کا مستحق ہے اور جو دلائل اس پر دال ہیں کہ ایمان چیزوں کے
[1] ۔ کفر و ضلال کو نقل کیا ہے۔ (تجانب اہل سنت صفحہ 233)
غنیۃ کے مختلف تراجم میں شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف لکھا ہوا ہے ہر ایک نے غنیۃ کو حضرت کی کتاب قرار دیا ہے امان اللہ خان ارمان سرحدی نے لکھا ہے کہ آپ کی تصانیف میں غنیۃ الطالبین کے علاوہ اور بھی چند کتابیں ہیں (غنیۃ مترجم امان اللہ خان سرحدی مطبوعہ دہلی: 48)
اسی کتاب کے صفحہ 50 پر لکھا ہے "آغاز کتاب" شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ میں نے کار ثواب سمجھ کر اور اخروی کامیابی کی امید پت ایسی کتاب لکھنے کا پختہ ارادہ کیا اور غنیۃ الطالبین اس کا نام رکھا۔ (صفحہ 50 دہلی کراچی صفحہ 19)
غنیۃ الطالبین کا دوسرا ایک مترجم لکھتا ہے اور اس میں شمس صدیقی بریلوی کا تعارف حضرت شیخ پر ہے کہ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت (شیخ عبدالقادر جیلانی) کی اہم تصنیف غنیۃ الطالبین جو 1288ھ کو پہلی بار مصر میں طبع ہوئی، اس کا فارسی ترجمہ سب سے پہلے عبدالحکیم سیالکوٹی نے کیا جو شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے معاصرین میں سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے اردو میں غنیۃ کا ترجمہ سب سے پہلے نول کشور نے عربی اردو کے ساتھ طبع کیا اس کے مترجم مولانا محبوب الدین و جمال احمد صاحبان تھے۔ (غنیۃ مترجم: ص 33،34 طبع انڈیا دہلی)
اسی طرح کراچی سے غنیۃ کا ترجمہ سید عبدالدائم جلالی کا طبع ہوا اس میں شیخ کا تعارف کچھ یوں لکھا ہے کہ یہ پوری کتاب حضرت شیخ عبدالقادر کی تصنیف ہے اہل تحقیق نے اس پر اتفاق نہیں کیا لیکن یہ بات بہرحال محقق ہے کہ حضرت شیخ کی طرف اس کتاب کا انتساب بالکل غلط نہیں سیاق عبارت ترتیب معانی پر حکمت بے باکانہ موغطت اور زور خطابت شیخ کا ہے ہاں باعث مباحث خصوصا دوزخ کی تفصیل و حالت کے متعلق احادیث منقولہ کو الحاقی اور موضوع کہا جا سکتا ہے اتباع امام ابوحنیفہ کو گمراہ فرقوں میں شمار کرنا بھی اس سلسلہ کی اہم کڑی ہے کیونکہ آپ کا مسلک فقہ حنبلی اور عقائد محدثین تھے (غنیۃ دار الاشاعت کراچی ص 15 مترجم جلالی طبع 1990ء)
مولانا شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی غنیۃ الطالبین کا ترجمہ کیا ہے اس میں ہے کہ غنیۃ شیخ عبدالقادر کی تصنیف ہے اور اس میں مختلف دینی مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ منجملہ دیگر مباحث کے 173 اسلامی فرقوں کی تفصیل بہت دلچسپ ہے۔ شیخ محدث نے فارسی میں اس کا ترجمہ کیا تھا جو اب دستیاب نہیں ہے مولوی عبدالحی فرنگی محلی نے اپنی بعض تصانیف میں اس ترجمہ کا حوالہ دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمہ ان کے پیش نظر تھا۔ (حیات شیخ عبدالحق دہلوی: ص 178)
یہ بھی یاد رہے کہ تقریبا اول ترجمہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کا ہے اسی دور میں شیخ عبدالحق دہلوی صاحب نے بھی ترجمہ کیا کیونکہ شیخ عبدالحق کی وفات 1050ھ۔ 1642ء اور سیالکوٹی بعد میں